Jane-e-Alam

A meeting with Ibne Safi's friend
 
image

Rashid Ashraf


جنوری سن 2010 کا دن تھا کہ ہم احمد صفی صاحب کے ہمراہ جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست، جان عالم صاحب کے گھر پہنچے۔ 1956 سے صفی صاحب سے نیاز مندی رکھنے والے عالم صاحب اپنی بھاری گونجیلی آواز میں ابن صفی صاحب سے متعلق یادیں تازہ کررہے تھے

سوال: پہلے تو آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیے
جواب: میری عمر اس وقت ساڑھے اسی برس ہے۔ میں آٹھ بہن بھائیوں کے بعد پیدا ہوا تھا، میرے آٹھوں بہن بھائی انتقال کرگئے تھے

سوال: ابن صفی کے بارے میں آپ کی عمومی رائے کیا ہے
جواب: وہ ایک انتہائی فقیر منش انسان تھے، طبیعت میں سادگی تھی

سوال: آپ کبھی الہ آباد گئے اور وہاں صفی صاحب کے کسی دوست احباب سے ملاقات ہوئی
جواب: جی ہاں، میں 1979 میں ہندوستان کے شہر الہ آباد ہو کر آیا تھا، وہاں عباس حسینی سے جو ابن صفی کے پبلیشر تھے، ملاقات ہوئی- ان کی معاشی حیثیت مضبوط تھی۔ ان کی کوٹھی دو ہزار گز پر مشتمل تھی۔ وسیع و عریض دلان، دو گاڑیاں، ڈرائیور، ڈرائنگ روم میں پچاس کرسیاں وغیرہ۔۔۔۔۔ ابن صفی صاحب نے بھی میرے ساتھ الہ آباد جانا تھا لیکن بیماری کی وجہ سے نہ جاسکے۔ وہاں عباس حسینی صاحب نے ہنگامہ کیا ہوا تھا کہ بس آجاؤ

سوال: عباس حسینی سے تعلقات کر بارے میں بتائیے
جواب: ان سے وضع داری کا رشتہ تھا جو آخری وقت تک قائم رہا۔ میں آپ کو حقیقت بتاؤں کہ لکھنؤ اور دہلی کے پبلیشرز نے کتابوں کو چھاپنے کا اختیار لینے کی بہت کوشش کی۔ سادہ چیک تک ابن صفی صاحب کے سامنے رکھے لیکن انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ میرے پبلیشر صرف عباس حسینی ہی ہیں۔ یوں وضع داری نبھائی

سوال: آپ کی صفی صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی
جواب: یہ 1956 کی بات ہے۔ تبسم آرٹ پریس کے نام سے میری پرنٹنگ پریس تھی۔ میں ناظم آباد سے آکر اردو بازار میں واقع فضلی سنز سے چھپائی کا کام لے جاتا تھا۔ خیال آیا کہ کیوں نہ ابن صٍی صاحب سے ٹائٹل کی طباعت کا کام لیا جائے۔ اس پر فضل الرحمٰن صاحب جو فضلی سنز کے مالک تھے، کے والد کہ بھائی میاں کہلاتے تھے، انہوں نے ابن صفی صاحب کے نام رقعہ دیا
میں ڈھونڈتا ڈھونڈتا لالو کھیت پہنچا، وہاں لطیف صاحب ملے، انہوں نے ابن صفی کے ناظم آباد والے گھر کا پتہ دیا اور میں وہاں جا پہنچا۔ اس زمانے میں ناظم آباد والا گھر زیر تعمیر تھا۔ ڈرائنگ روم میں پتھر پڑے تھے اور وہیں ابن صفی ایک چارپائی پر لیٹے تھے۔ اب مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہی ابن صفی ہیں کہ جن کی شہرت چار دانگ عالم میں ہے۔ بال بکھرے ہوئے، شاید تازہ تازہ پان کھایا تھا، بان کی چارپائی ان کے بیٹھنے سے زمین پر جالگی تھی
میں نے کہا کہ صفی صاحب، آپ اس بات کے پابند نہیں ہیں کہ مجھے بزنس دیں، آپ کے ساتھ چائے پی، یہی بہت ہے، لیکن آپ اپنے پسندیدہ ٹائٹل کی کاپی مجھے دیں تو میں آپ کو پرنٹ کرکے دوں گا، بھلے بزنس نہ ہو لیکن رسم و راہ ضرور ہونی چاہیے۔ ابن صفی صاحب نے لطیف صاحب کے نام خط دیا، میں پریس چلا گیا۔ کرنافلی پریس ڈھاکا کا عمدہ امپورٹڈ پیپر لیا اور اس کلینڈر پیپر پر جاسوسی دینا اور عمران سیریز کا ایک ایک ٹائٹل چھاپا اور ابن صفی صاحب کو لے جاکر دے دیا۔ وہ دیکھ کر سمچھ گئے اور خوب ہنسے اور کہا کہ آپ نے تو گویا مفت میں چھاپ دیا

جان عالم صاحب کی ابن صفی سے اس پہلی ملاقات کے احوال کی ویڈیو ہم نے اسی دن بنا ڈالی تھی

Friend of Ibne Safi, Jan-e-Alam describing the first meeting with Ibne Safi

 

سوال: آپ کی صفی صاحب سے آخری ملاقات کب ہوئی
جواب: میری آخری ملاقات ان کے انتقال سے ایک روز قبل ہوئی تھی۔ مجھے ذرا برابر بھی یہ شائبہ نہ تھا کہ یہ میری ابن صفی سے آخری ملاقات ہے۔ دراصل، صفی صاحب کی طبعت 1979 کے اوائل سے خراب ہونا شروع ہوئی تھی، وہ ڈاکٹر رب (رب میڈیکل سینٹر کے مالک) اور ڈاکٹر ایس ایچ ایم زیدی (سید حسن منظور زیدی- مشہور آنکالوجسٹ یعنی کینسر کے اسپیشلسٹ) کے زیر علاج رہے تھے۔ 1979 کے آخر میں جناح اسپتال میں ایڈمٹ رہے
ان کے انتقال سے ایک روز قبل میں گھر گیا، انہوں نے مجھے اپنی خوابگاہ میں بلالیا، یہ ایک خلاف توقع بات تھی ورنہ ہمیشہ ملاقات ڈرائنگ روم میں ہی ہوا کرتی تھی، میں پہلی اور آخری بار ان کی خوابگاہ میں گیا تھا۔ کتابیں بکھری ہوئی تھیں۔ ان حالت ہرگز ہرگز تشویشناک نہ تھی۔ میں نے کہا کہ تیار ہوجاؤ، میں تمہیں لینے آیا ہوں، وہ نڈھال سے تھے اور میرے ساتھ چلنے پر آمادہ نہ ہوئے، کچھ دیر بیٹھ کر میں وہاں سے چلا آیا۔ یہ احساس تک نہ ہوا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ ہاں، جس وقت انہوں نے مجھے اپنی خوابگاہ میں بلایا تھا، اس وقت ماتھا ٹھنکا لیکن حالت دیکھ کر تسلی ہوگئی تھی کہ ایسی کوئی بات نہیں۔
اس وقت میری رہائش، ناظم آباد ہی میں تھی، ان کے (ابن صفی کے) گھر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر۔ روز صبح میں اخبار ضرور پڑھتا ہوں، یہ میری پرانی عادت ہے، اس روز سرخی پر نظر پڑی، ابن صفی کے انتقال کی خبر سامنے تھی، وہ دکھ بیان کرنا ناممکن ہے، کسے طور یقین نہ ہوتا تھا کہ یہ چلے گئے ہیں لیکن کیا کرتا، سامنے لکھا تھا

سوال: کوئی ایسا خاص واقعہ جو ابن صفی کی ذات سے متعلق ہو
جواب: ایک ایسی بات یاد آتی ہے جو میرے لیے خاصی حیران کن رہی اور وہ یہ کہ 1960 کے اواخر میں انہوں نے مجھ سے ایک بار کہا تھا کہ میں عنقریب اتنا بیمار ہونے جارہا ہوں کہ اگر کسی کو بتاؤں تو کوئی یقین نہ کرے۔ پھر وہ بیمار ہوئے اور تین سال (1961-1963، شیزوفرینیا) تک بیمار ریے





See Also
Three friends at Ibne Safi's final abode