مقامی جاسوسی ادب انگریزی میں: ابن صفی، یکے از تجربات

Essays / Articles
 

Dr. Ahmad Safi


image

image

مقامی جاسوسی ادب انگریزی میں: ابن صفی، یکے از تجربات

AHMAD SAFI | Noida, جنوری 30, 2012 11:29

یہ جمعہ ۲۲ اپریل ۲۰۱۱ کی شام تھی۔ میں نئی دہلی انڈیا ہیبیٹاٹ سنٹر کے گل مہر ہال میں بس پہنچا ہی تھا۔ آخری لمحوں میں ویزا ملنے کے باعث مجھے محض چند گھنٹے ہی تیاری کے لئے مل سکے تھے اور میں بہت جلدی میں کراچی سے براستہ دبئی، نئی دہلی تک فلائٹ لے کر پہنچ سکا تھا۔ اگرچہ تھکن کا مارا ہوا تھا مگر پھر بھی ذوق و شوق سے میں اس پرجوش ہجوم کو دیکھ رہا تھا جو ابن صفی کی جاسوسی دنیا کے انگریزی ترجمے کی تقریب رو نمائی میں آیا ہوا تھا۔ میں نے چاہا کہ آگے بڑھ کر لابی میں ایک اسٹال پر برائے فروخت ان کتابوں کا پہلا دیدار کر سکوں، مگر مجھ سے بھی زیادہ جوشیلے ہجوم نے مجھے پیچھے دھکیل دیا۔ میں نے دوبارہ بھی کوشش کی مگر لاحاصل۔ مجھے اپنے کاندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا اور پھر کسی نے میرے کان میں جیسے سرگوشی کی، ”ان کی کتابیں کبھی ایسے ہی فروخت ہوا کرتی تھیں.... آج آپ کو بھی اس کا تجربہ ہو گیا!“ یہ تھے جناب شمس الرحمن فاروقی صاحب، اردو کے ممتاز بڑے نقاد، شاعر، ناولسٹ.... اور ابن صفی کی جاسوسی دنیا کے انگریزی مترجم۔

اسرار ناروی جو ۱۹۲۸ ءمیں الٰہ آباد کے ایک گاﺅں نارا میں پیدا ہوئے اور جنہوں نے ابن صفی کا قلمی نام اختیار کیا، ۱۹۵۲ءسے ۱۹۸۰ءتک برصغیر کے جاسوسی ادب پر راج کرتے رہے۔ ابن صفی نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے مقبول سلسلوں میں دوسو پینتالیس ناول لکھے۔ یہ ناول دنیا کے مختلف ممالک کے پس مناظر میں لکھے گئے جن میں برصغیر کے علاوہ اسپین، ایطالیہ، انگلستان، اسکاٹ لینڈ، جزائر بحرالکاہل، زنجبار، جنوبی افریقہ اور شمالی امریکہ شامل ہیں۔مقبول جاسوسوں کرنل فریدی، کیپٹن حمید اور علی عمران نے لاکھوں قارئین کے دل جیتے۔ ابن صفی کے ناولوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ لوگ اشاعت کے روز کتب فروشوں کے یہاں قطاروں میں لگ کر بلیک میں بھی ان کتابوں کو خریدتے تھے۔ بیسویں صدی کی پچاسویں دہائی میں تو یہ عالم تھا کہ چھوٹی چھوٹی ”آنہ لائبریریاں“ زیادہ کرایہ پر ان کے ناول دیتی تھیں اور اس شرط پر کہ قاری کو وہیں بیٹھ کر یہ ناول ختم کرنا ہوگا کیونکہ اگلے خریدار قطار میں لگے ہوتے تھے۔ یہ تھی ان کی مقبولیت اور مانگ۔

ابن صفی کا ترجمہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ اگر یہ محض عامیانہ تفریحی ادب (پلپ فکشن) ہوتا تو یہ کام شاید بہت آسان ہوتا۔ بہت سے لوگوں نے اس سے پہلے کوشش کی مگر ہمت ہار گئے۔ ابن صفی کو عامیانہ تفریحی ادب تخلیق کرنے والوں سے ممیز کرنے کے لئے ہمیں ان کی ادبی شخصیت کے مختلف پہلوﺅںپر نظر ڈالنی پڑے گی۔ ممتاز جاسوسی ادیب بننے سے بہت پہلے وہ ادبی حلقوں میں ایک ترقی پسند شاعر اسرار ناروی کے نام سے جانے جاتے تھے۔وہ ایک کامیاب طنز نگار بھی تھے اور طغرل فرغان اور سنکی سولجر کے قلمی ناموں سے مشہور ہوئے۔ تعلیم یافتہ اور کثیر المطالعہ ہونے کے باعث ان کے زبان و بیان، ترسیل اور آدرش بہت طاقتور اورہمہ گیر تھے۔ یہی زبان و بیان اور آدرش ان کی جاسوسی ادب سے متعلق تحریروں میں بھی نفوذ کر گئے تھے۔ طنز و مزاح اور ادبی استعارات نے سراغ رسانی اور سسپنس سے مل کر جو شکل اختیار کی اسے ہم جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے نام سے جانتے ہیں۔

شمس الرحمن فاروقی صاحب لکھتے ہیں، ”میرا خیال ہے کہ ابن صفی کا ترجمہ بہت مشکل ہے، کیونکہ وہ اردو کی ادبی اور سماجی ثقافت میں بہت گہرائی تک اترے ہوئے ہیں۔ ان کا مزاح الفاظ کے ہیر پھیر، زبان کے ٹیڑھے پن اور مقامی سماجی سیاق و سباق پر مبنی ہوتا ہے۔ مگر ایک ایسے مترجم کے لئے جس کو جدید انگریزی لَے کا اچھی طرح اندازہ ہو، ابن صفی ایک ناقابلِ شکست چنوتی نہیں دے سکتے کیونکہ بہر حال انگریزی ایک طاقتور زبان ہے۔“ (ماہنامہ فرسٹ سٹی، نئی دہلی، جولائی ۲۰۱۱ئ)

سن ۲۰۱۰ءاور ۲۰۱۱ءمیں ابن صفی کے آٹھ عدد ناول ترجمہ ہو کر زیور ِ طباعت سے آراستہ ہوئے۔ ”ہاﺅس آف فیئر“ میں عمران سیریز کے پہلے دو ناولوں کا ترجمہ شامل تھا جو بلال تنویر نے کیا اور اسے رینڈم ہاﺅس انڈیا نے شائع کیا۔ پھر جاسوسی دنیا کے چار ناولوں کا ترجمہ شمس الرحمن فاروقی صاحب نے کیا جن میں زہریلے تیر،پا نی کا دھواں، لاش کا قہقہہ اور ڈاکٹر ڈریڈ کے نام سے ناولیں شامل تھیں۔ یہ ناول پوائزنڈ ایرو، اسموک واٹر، لافنگ کارپس اور ڈاکٹر ڈریڈ کے نام سے بلافٹ پبلیکیشنز نے ٹرینک بار پریس کے تعاون سے شائع کیا۔ اس سلسلے کی سب سے نئی کتاب ڈینجرس مین ہے جس میں عمران سیریز کے دوسرے اور تیسرے ناول کا ترجمہ تیمور شاہد نے کیا ہے۔ اسے بھی رینڈم ہاﺅس انڈیا نے شائع کیا۔ بلافٹ / ٹرینک بار کے تراجم ساتھ ہی ساتھ الیکٹرانک فارمیٹ میں ایمیزون ڈاٹ کام پر بھی شائع کئے گئے۔

ابن صفی کے ناولوں کے تراجم ہاتھوں ہاتھ لئے گئے اور برصغیر کے تقریباً تمام ہی ممتاز جرائد اور اخبارات میں ان پر تبصرے بھی شائع ہوئے۔ زیادہ تر تبصروں میں ان تراجم کو ابن صفی کے احیاءکا پیش خیمہ قرار دیا۔ دنیا بھر سے قارئین کی آراءابن صفی کی آفیشیل ویب سائٹ یعنی ابن صفی ڈاٹ انفو اور ان کے فیس بک پیج پر موصول ہوئیں۔ ایسا ہی ایک تبصرہ شہر پورٹ لینڈ، ریاست آریگان شمالی امریکہ کے ایک نوادرات اور آرٹ کی تخمینہ کار کمپنی، گرمر اینڈ ایسوسی ایٹس کے مالک جناب گیری گرمر صاحب نے بھیجا، وہ کہتے ہیں، ”

میں نے ہاﺅس آف فئیر پڑھی اور اس سے بے حد لطف اندوز ہوا۔ اگرچہ میرے پاس محض ایک پیپر بیک کاپی ہی ہے مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا مجھے ایک خزانہ مل گیا ہے جو مجھے کرہ عرض کے دوسری طرف موجود نئے دوستوں سے جوڑ دیتا ہے۔“

ہاﺅس آف فئیر پر ایک اور تبصرہ ایمیزون ڈاٹ کا م کی ایک گاہک، چینکی ملانکس جو مانمتھ، الی نوائے (یو ایس اے) نے بھی کیا: ”

مجھ جیسے انگلش اسپیکر کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ مطالعے کے لئے عمران کے کارنامے مایوسی کی حد تک کمیاب ہیں۔ تو کیا مجھے اب اردو سیکھنی پڑے گی؟ یا پھر فاضل ناشران بہت تیزی سے کام کرکے ابن صفی کے ناولوں کے مزید تراجم کروائیں گے تاکہ مزید ناولوں کے لئے قارئین کی شدید پیاس کو بجھایا جا سکے؟“

یہ سادہ سے تبصرے مجھے بتاتے ہیں کہ انگریزی تراجم کی تقریب رونمائی کے موقع پر نئی دہلی کے گل مہر ہال میں موجود لوگوں کا جوش و خروش اب واقعی بین الاقوامی سرحدوں کو پار کر چکا ہے اور ابن صفی کا ادب برصغیر اور دنیا بھر میں زندہ و جاوید ہے۔