سنہری یادیں ۔ ادبی عدالت کا احوال

Essays / Articles
 

Abid Ali Beg


Memories of 27 December 1973

ابن صفی نے فحش اور گھٹیا ادب تخلیق کیا ہے۔

ابن صفی کے کردار مافوق الفطرت اور ناقص ہیں۔

اردو میں سنسنی خیز ادب ابن صفی ہی کی وجہ سے پروان چڑھا ہے۔

یہ اور ایسے کئی الزامات کی سماعت جسٹس قدیرالدین احمد کی ادبی عدالت میں جمعرات 27 دسمبر 1973 کی صبح آرٹس آڈیٹوریم یونیورسٹی آف کراچی میں ہوئی۔

تقریب کا انتظام انجمن طلباء جامعہ کراچی کی بزم مفکرین نے کیا تھا جس کے چئیرمین محمد سراج الدین تھے۔

اس پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری میرے سپرد تھی۔ یوں اس عظیم مصنف کے ساتھ چند گھنٹے اسٹیج شئیر کرنے کا نادر موقع نصیب ہوا۔ پیش کارِعدالت کے فرائض ضیاءالرحمٰن ضیاء نے انجام دیے ۔ پراسیکیوٹر تھے شفیع نقی جامعی. ایک موقع پر شفیع نے ابن صفی پر جرح کرتے ہوے کہا " آپ نے کئی مواقع پر لکھا ہے. کیپٹن حمید کسی مشتبہ شخص کا تعاقب کرتے ہوے اپنی شناخت چھپانے کے لئے کوٹ کی جیب سے اسپرنگس نکال کر اپنے نتھنوں میں فٹ کر لیتا ہے جس سے اس کا بالائی ہونٹ اوپر کو کھنچ جاتا ہے . اوپری دانت نمایاں ہوجاتے ہیں اور چہرے کی ہییت تبدیل ہو جاتی ہے .... آپ نے یہ لکھا ہے؟

ابن صفی نے نے اثبات میں سر ہلایا ...

کیا ایسا ممکن ہے؟ " شفیع نے جرح کی ... ابن صفی نے پھر اثبات میں سر ہلایا . شفیع نے اپنے کوٹ کی جیب سے دو اسپرنگس نکال کر ابن صفی کو پیش کرتے ہوے اس کا عملی مظاہرہ کرنے کی درخواست عدالت سے کی. ابن صفی نے کمال حاضر جوابی سے کہا "یہ اسپرنگس کسی گائے یا بھینس کے نتھنوں میں تو فٹ ہوسکتے ہیں .. انسان کے نہیں" ہال تالیوں سے گونج اٹھا .

شفیع بھی کم نہیں ہیں . انہوں نے دوسری جیب سے دو ننھے منے اسپرنگس نکال کر ان کی طرف بڑھا دیے. ابن صفی ذرا تذبذب کا شکار ہوئے . اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے منصف اعلیٰ جسٹس قدیرالدین احمد نے موقع کی نزاکت کو بھانپتے ہوے کہا " آرڈر آرڈر آرڈر .. ان اسپرنگس کو اگزامنیشن کے لیے فوری طور پر لیبارٹری بھیج دیا جائے ."

وکلائے صفائی ، جن میں سعدیہ صدیقی ( بعد میں سعدیہ روشن ) اور ننھے مُنے ہونہار مقرر انجم رفعت اللہ خان شامل تھے ، نے اپنی دلیلوں سے الزامات کو بے بنیاد اور انتہائی غلط ثابت کیا اور انہیں اردو زبان اور ان سے متاثر ہونے والی نسلوں کا محسن ثابت کیا۔

معزز عدالت نے ملزم ابن صفی کو ان سنگین الزامات سے باعزت بری کردیا۔

لگ بھگ گیارہ برس پہلے میں نے جب پہلی پار یہ واقعہ فیس بک پر شئیر کیا تو ایک کمنٹ آیا " اس شام ابو نے گھر آکر یہ قصہ بعینہٖ بیان کیا تھا - احمد صفی " یوں اس پوسٹ کے توسط سے فرزند ابن صفی سے پہلا رابطہ ہوا جو الحمدللہ اب ایک پرخلوص دوستی کے رشتے میں تبدیل ہوچکا ہے۔

ذیل میں اس تقریب کی جو دستاویز شئیر کی ہیں وہ بھی بھائی احمد صفی نے اپنے ابو کے کاغذات میں سے تلاش کرکے بھیجے۔

یہ پروگرام اتنا کامیاب اور مقبول ہوا کہ چند برس کے وقفے سے ایک بار پھر جامعہ کراچی میں یہ عدالت سجی جس کا مفصل احوال برادر احمد حاطب صدیقی لکھ چکے ہیں۔

عابد علی بیگ

  



image

اس تقریب کے تین شریک بائیں جانب سے بزم مفکرین جامعہ کراچی کے اس وقت کے چئیرمین سراج الدین جنہوں نے اس کا انعقاد کیا۔ درمیان میں وکلائے استغاثہ کے “ سرغنہ” شفیع نقی جامعی اور تقریب کی نظامت کرنے والا یہ خادم یہ تصویر چند برس قبل لندن میں یوم اقبال کے موقع پر لی گئی۔