IBNe SAFi 

 THE GREAT MYSTERY WRITER

 

HOME  INTRODUCTION  BIOGRAPHY  WORKS  POETRY  AUDIO  FEEDBACK  FAQ  DETECTIVES  VILLAINS 

            WITS & WISDOM  PHOTO GALLERY  DHAMAKA  PICTORIAL  ESSAYS  TITLES  OBITUARY  CREDITS  EMAIL

              

                                            Wilayat Ahmed                            Back

         One of the artists who designed front covers of Jasoosi Duniya and Imran Series             

 

By Rashid Ashraf

zest70pk@gmail.com

ابن صفی کے ناولز کے لیے سرورق بنانے والے آرٹسٹ ولائیت احمد سے ملاقات ہمراہ تصاویر۔ 14-11-2009

ولائیت احمد صاحب ان آرٹسٹوں میں سے ایک ہیں کہ جنہوں نے جناب ابن صفی کی جاسوسی کتب کے لیے سرورق ڈئزاین کیے۔ فرزند ابن صفی جناب احمد صفی کے توسط سے یہ ملاقات 14 نومبر دو ھزار نو کی صبح،  ولائیت احمد صاحب کی قیام گاہ پر ہوئی۔ ابتدائی دو تصاویر06 دسمبر دو ھزار نو کی ہیں جن میں جناب احمد صفی اپنے بیٹے کے ہمراہ ولائیت صاحب کے ساتھ نمایاں ہیں.

ولائیت احمد صاحب پاکستان میں ڈاٹ ورکس میں پینٹنگ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص ہیں۔ آپ پیشے کے لحاظ سے ایک بینکار تھے اور اب کراچی میں ریٹائرمینٹ کی زندگی گزار ریے ہیں۔ پڑھنے والوں کے لیے یہ جاننا باعث دلچسپی ہو گا کہ معروف علمی و ادبی شخصیت پروفیسر وقار عظیم، ولائیت احمد صاحب کے سگے ماموں تھے۔ پروفیسر وقار کا ذکر اے حمید صاحب نے اپنی کتاب چاند چہرے میں بڑی عقیدت سے کیا ہے۔

ولائیت صاحب کی ابن صفی صاحب سے پہلی ملاقات سن 1958 میں ہوئی اور اس کے محرک جناب انوار صدیقی (مصنف اقابلا، انکا و سونا گھاٹ کا پجاری) تھے جو ولائیت صاحب کو ابن صفی کے فردوس کالونی والے آفس میں لے کر گئے تھے۔ بقول ولائیت صاحب ملاقات سے قبل ھم سمجھتے تھے کہ صفی صاحب کی شخصیت شاید کرنل فریدی جیسی ہو گی، منہ میں سگار، سوٹ میں ملبوس وغیرہ وغیرہ لیکن  صفی صاحب تو ایک انتہائی سادہ مزاج شخص نکلے۔ خیر ہم نے ان (ابن صفی)  سے خود ابن صفی کے بارے میں دریافت کیا، ہمارہ سوال تھا کہ صفی صاحب کہاں ہیں ؟ انہوں نے جھٹ جواب دیا: ابھی ابھی باہر گئے ہیں   (ابن صفی صاحب کا اشارہ ان کے والد صفی اللہ صاحب کی طرف تھا جو اسی وقت اٹھ کر باہر گئے تھے) بہرکیف، شاید ہم نے اپنی اس کیفیت کا ان سے اظہار کردیا تھا یا وہ خود سمجھ گئے، مسکرائے اور کہا کہ کیا آپ نے میری زمین کے بادل والے تصویر نہیں دیکھی (زمین کے بادل ان ہی دنوں شائع ہوا تھا)۔

ولائیت صاحب نے 1958-59 کا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ابن صفی، میں (ولائیت احمد) اور انوار صدیقی، سیر و شکار کے لیے ملیر گئے۔ ابن صفی صاحب کے پاس ڈیانا-ون کی ایئر گن تھی۔ ایک درخت کے سائے تلے بیٹھے مجھے جو سوجھی تو دھائیں سے اوپر بیٹھے کووں کے غول پر فائر کر ڈالا، ایک کوا مارا گیا اور درخت تلے بیٹھی ایک خاتون اور ان کے شوہر کے عین درمیان آ گرا اور وہاں ایک ہنگامہ کھڑا ہوا۔ دن گزار کر ہم لوگ بذریعہ بس لوٹ آئے۔

احمد صفی صاحب کا اضافی نوٹ: جرمن میک کی ایئرگن ڈایانا ۔ ۳۵ تھی۔ گن ناقابلِ استعمال حالت میں آج بھی موجود ہے تصویر فراہم کرنے کی کوشش کروں گا۔ اس گن کے اندر آ کر میرے (احمد صفی) داہنے ہاتھ کی انگشت شہادت کا اوپری حصّہ بھی کٹ چکا ہے۔ تمجھے اسی برانڈ کی ڈایانا۔۱۶ سولہ  بطور انعام پانچویں جماعت میں اول آنے پر دی گئی تھی۔

ہمارے ایک سوال کے جواب میں،  ولائیت صاحب نے یہ دلچسپ  بات بتائی کہ ابن صفی صاحب نے  ان کو ابنی کتاب کا ٹائٹل بنانے کا اولین معاوضہ دس روپے دیا تھا جو بعد میں بڑھتے بڑھتے دو سو کے لگ بھگ ہو گیا تھا۔

ولائیت صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ یہ صفی صاحب تھے جنہوں نے ان کو ٹائٹل بنانے کا مشورہ دیا، اس وقت ولائیت صاحب سوینیر ٹوبیکو  میں ملازمت کر ریے تھے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ میں ابن صفی صاحب کو بیک وقت چار پانچ ٹائٹل بنا کر دے دیا کرتا تھا اور وہ اس کو اپنے ناول میں استعمال کر لیا کرتے تھے۔

ولائیت صاحب نے بتایا کہ ابن صفی اپنے سے چھوٹوں سے شفقت برتا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے 1961 کا ایک واقعہ بتایا کہ میں سائیکل پر کہیں جارہا تھا اور اپنی آسانی کے لیے ایک ٹرک کا عقبی حصہ تھامے ہوئے تھا تاکہ پیڈل نہ مارنے پڑیں، اس حالت میں کہیں ابن صفی صاحب (جو وہاں سے ایک رکشے پر گزر رہے تھے) نے دیکھ لیا  اور روک کر ڈانٹا کہ اور کہا کہ یہ کیا حماقت ہے۔

ڈاکٹر ایثار احمد صفی مرحوم کے بارے میں ولائیت صاحب نے کہا کہ بہت پیارا آدمی تھا

ولائیت صاحب نے ابن صفی کے انتقال والے دن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو اس سانحے کی اطلاع مشتاق احمد قریشی نے دی۔ اب مجھے یہ تو یاد نہیں کہ کون بچہ تھا لیکن یہ اچھی طرح یاد یے کہ ابن صفی صاحب کے ایک کمسن بچے کو میں نے اپنی گود میں اٹھایا ہوا تھا، بچہ بھی رو رہا تھا اور ساتھ ساتھ میں بھی زاروقطار رو رہا تھا۔

احمد صفی صاحب کا اضافی نوٹ: ابّو کے انتقال کے دن سب سے چھوٹا بھائی افتخار بھی سولہ سال سے کم نہیں تھا  لہٰذا یہ بیان قرینِ حقیقت نہیں۔ اب نا معلوم کون بچّہ ان کی گود میں تھا؟

Artist Wilayat Ahmed With Dr. Ahmad Safi and his son Asmar Safi With Rashid Ashraf A Painting
Self Portrait 1982 Imran Series-113 A Sketch A Sketch

A Sketch 1982 H. Iqbal's Novel A Title A Title
 
A Title A Title A Title  

 

 


Copyright 2005 Mohammad Hanif