شیخ ابراہیم ذوق کہہ گئے ہیں
اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے ملاقاتِ مسیحا و خضر سے
احباب ابن صفی جناب شاہد منصور، جناب جان عالم اور جناب انوار صدیقی جنوری 31 ،سن 2010 کی ایک سہہ پہر کو جان عالم صاحب گھر مجتمع ہوئے — طے شدہ پروگرام کے تحت ہم انوار صدیقی کو لے کر شاہد منصور صاحب کے گھر پہنچے جہاں سے جان عالم صاحب کی رہائش گاہ کا قصد کیا — یاد رہے کہ انوار صدیقی اور شاہد منصور آپس میں40 برس کے طویل عرصے کے بعد ملے تھے
جان عالم صاحب کے گھر کے باہر تینوں بزرگ ملے، انوار صاحب بھی عالم صاحب سے 40 برس بعد ملے تھے اور شاہد صاحب کی عالم صاحب سے ملاقات قریب 13 برس بعد ہوئی — ابھی گھر کے اندر داخل بھی نہ ہوئے تھے کہ عالم صاحب نے کہا کہ چوتھے دوست کی کمی ہے، کیوں نہ ان سے بھی ملاقات کرلی جائے – میں نے انوار و شاہد صاحب کی طرف دیکھا، وہ راضی نظر آئے —- اس دن پاپوش نگر کے حالات بہت خراب تھے لیکن اللہ کا نام لے کر چلے
وہاں پہنچ کر عالم صاحب نے پھول خریدے اور تینوں احباب قبر پر گئے – وہاں پہنچ کر ، انوار صاحب آبدیدہ ہوئے بلکہ زاروقطار رونے لگے۔ انوار صاحب، 30 برس بعد پہلی مرتبہ صفی صاحب کی قبر پر گئے تھے — پھول ڈالے جاتے رہے اور فضا بوجھل ہوتی گئی — تینوں احباب قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور صفی صاحب کا تذکرہ ہوتا رہا — لمحہ بہ لمحہ تصاویر لی جاتی رہیں اور ویڈیو بھی بنتی رہی —– یہ تمام تصاویر آپ عنوانات کے ساتھ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
قبرستان سے جان عالم صاحب کے گھر پہنچے اور ڈیڑھ گھنٹہ ابن صفی صاحب کے فن و شخصیت پر خوب باتیں ہوئیں — پھر اس وعدے کے ساتھ رخصت ہوئے کہ اگلی ملاقات جلد ہوگی