IBNe SAFi 

 THE GREAT MYSTERY WRITER

 

HOME  INTRODUCTION  BIOGRAPHY  WORKS  POETRY  AUDIO  FEEDBACK  FAQ  DETECTIVES  VILLAINS 

            WITS & WISDOM  PHOTO GALLERY  DHAMAKA  PICTORIAL  ESSAYS  TITLES  OBITUARY  CREDITS  EMAIL

              

                                           Shahid Mansoor                               Back

         A meeting with Ibne Safi's friend            

          

By Rashid Ashraf

zest70pk@gmail.com


جنوری سن 2010 کا دن تھا اور ہم احمد صفی صاحب کے توسط سے جناب ابن صفی کے دیرینہ دوست، شاہد منصور صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔ 1953 سے صفی صاحب سے نیاز مندی رکھنے والے شاہد منصور یاد ماضی کو آواز دے رہے تھے۔ سوال تھا کہ آپ کی صفی صاحب سے پہلی ملاقات کب ہوئی---

شاہد منصور صاحب نے بتایا کہ صفی صاحب کی رہائش کراچی کے علاقے لالو کھیت میں تھی اور وہ اپنے دوستوں تیغ الہ آبادی (بعد میں مصطفی زیدی) اور احمد علی سید کے ہمراہ ادریس ہوٹل پر بیٹھا کرتے تھے۔ ان دنوں لیاقت آباد میں کتوں کی بھرمار تھی جن سے بچنا بھی گویا ایک فن کہلاتا تھا ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے، شاہد صاحب اپنے ایک دوست سے کالے رنگ کا ایک ڈنڈا مستعار لے آئے، بس پھر کیا تھا، بغل میں ڈنڈا دبائے وہ لیاقت آباد کی گلیوں میں کتوں کی یورش سے بے نیاز گھوما کرتے تھے ---- ایک روز حسب معمول ادریس ہوٹل میں ابن صفی، تیغ الہ آبادی اور احمد علی سید، میرا جی پر گفتگو کر رہے تھے - بقول شاہد صاحب، ان حضرات کی گفتگو کے حوالے پرانے تھے اور یوں شاہد صاحب سے رہا نہ گیا اور وہ اپنے اس ہیبتناک ڈنڈے کے ہمراہ ان تینوں کی میز پر جا دھمکے اور میرا جی سے متعلق تازہ معلومات سمیت ان پر برس پڑے - تینوں خاموشی سے سنتے رہے اور پھر بنا کچھ کہے اپنی میز سے اٹھ کر چلے گئے ----- شاہد صاحب کا بیان کہ اگے روز تینوں میں سے کوئی بھی ہوٹل میں موجود نہ تھا۔ تیسرتے روز ابن صفی اکیلے اپنی میز پر بیٹھے دکھائی دیے اور یوں اس دن کی ملاقات میں شاہد صاحب کو یہ دلچسپ حقیقت معلوم ہوئی کہ تینوں احباب، شاہد صاحب کو سی آئی ڈی والا سمجھ بیٹھے تھے کہ ان دنوں سی آئی ڈی والوں کے پاس بھی اسی قماش کا ڈنڈا ہوا کرتا تھا ۔ بہرکیف وہ غلط فہمی تو دور ہوئی اور شاہد صاحب کی ابن صفی صاحب سے نیاز مندی کا سلسلہ شروع ہوا جو 1980 میں صفی صاحب کے انتقال تک جاری رہا۔

یاد رہے کہ شاہد صاحب کی ابن صفی سے اس پہلی ملاقات کے احوال کی ویڈیو ہم نے اسی دن بنا ڈالی تھی جو مندرجہ ذیل لنک پر دیکھی جاسکتی ہے

http://www.youtube.com/watch?v=Er1NZkNx0K0

ہمارے ایک سوال کے جواب میں شاہد منصور نے بتایا کہ ایک ادیب تھے جو جاسوسی ناول لکھنے والوں کو برا بھلا کہتے تھے۔ ایک روز جب شاہد صاحب ان ادیب کے گھر گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ موصوف کے تکیے کے نیچے ابن صفی کی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ بقول شاہد صاحب، " میں نے اس دن اس کو پانچ سو گالیاں دیں

ابن صفی کے متعلق لکھی گئی شاہد صاحب کے تحریریں، نایاب تصاویر اور بہت سا مواد 1997 میں شاہد صاحب کے لیاقت آباد والے گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں ضائع ہوگیا جس کا قلق شاہد صاحب کو آج بھی ہے۔

ابن صفی کے ہمراہ منائی گئی ایک پکنک کا دلچسپ احوال ہمیں شاہد صاحب نے سنایا۔ اس روز پکنک کے لیے سینڈزپٹ کا انتخاب ہوا تھا۔ ابن صفی کے والد، صفی اللہ بھی اس پکنک میں شامل تھے۔ سب لوگ رات میں سمندر پر پہنچے تھے اور ہٹ میں ٹھہرے جہاں رات گئے صفی اللہ صاحب اپنی نگرانی میں پائے پکواتے رہے جو علی الصبح کھائے گئے۔ سہہ پہر میں سب لوگ واپس لوٹے۔

شاہد صاحب نے مزید بتایا کہ ابن صفی شکار کے لیے زیادہ تر ملیر اور لسبیلہ جاتے تھے۔ کبھی کبھار اوتھل تک بھی جایا کرتے تھے۔

ابن صفی سے شاہد صاحب کی آخری ملاقات ان کے انتقال سے ایک روز قبل ہوئی تھی۔ اس روز (جولائی 25، سن 1980) شاہد صاحب سہہ پہر ساڑھے تین بجے صفی صاحب کے ناظم آباد میں واقع گھر گئے اور شام پانچ بجے واپس لوٹے- بقول شاہد صاحب، ان کو ذرا برابر بھی یہ شائبہ نہ تھا کہ یہ ان کی ابن صفی سے آخری ملاقات تھی۔ متذکرہ ملاقات میں ابن صفی، شاہد صاحب سے شکرال سیریز کے بارے میں گفتگو کرتے رہے تھے۔ اسی رات مشتاق احمد قریشی، اپنی جیپ پر سوار، شاہد صاحب کے گھر رات کے ساڑھے تین بجے آئے اور ابن صفی کے سانحہ ارتحال کی روح فرسا خبر سنائی۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابن صفی صاحب کے پڑھنے والے ان کی تحریروں کو حد درجہ انہماک سے پڑھتے ہیں۔ ان کی عمران سیریز کے قارئین کو یہ یاد ہوگا کہ صفی صاحب نے عمران سیریز کے ایک ناول "آگ کا دائرہ" - نمبر 110 میں ایک کردار (جو دراصل تھریسیا ہی تھی) ثمینہ سالومن کی زبانی ایک نثری نظم کہلوائی تھی۔ ثمینہ سالومن یا تھریسیا نے یہ نثری نظم شہر کی ایک ادبی انجمن کی ماہانہ نشست میں پڑھی تھی۔ شاہد منصور صاحب نے یہ حیریت انگیز انکشاف کیا کہ متذکرہ نظم دراصل ابن صفی کی اپنی کہی ہوئی تھی، مزید انکشاف یہ نظم ناول "آگ کا دائرہ" میں طوالت کے خوف سے ادھوری حالت میں درج کی گئی اور اس وقت مکمل حالت میں ابن صفی کی اپنی تحریر میں شاہد منصور صاحب کے پاس محفوظ ہے ---- پچھلے دنوں شاہد صاحب کو یہ اپنے پرانے کاٍغذات کھنگالتے ہاتھ لگی۔ یہاں ہم ابن صفی صاحب کی اس نظم بعنوان "صفر بٹا صفر" کو اپنے خوش ذوق قارئین کی نذر کرتے ہیں لیکن اس سے پہلے شاہد منصور صاحب کی زبانی کچھ احوال اس نظم کے لکھے جانے کا سُنتے جائیے

" سال بالکل ٹھیک ٹھیک تو مجھے (شاہد منصور) یاد نہیں مگر یہ سن 70 کی دہائی کے بالکل ابتدائی برسوں کی بات ہے کہ افسر آذر اور شمیم نوید ایک دن مجھے ملنے آگئے۔ یہ دونوں نثری نظموں کے پُرجوش مبلغ تھے بلکہ شمیم نوید تو نثری نظموں اور ان کے فروغ سے نہ جانے کیوں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ نثری نظموں کے موضوع پر میرے اور ان کے درمیان پہلے ہی گرما گرم بحثیں ہوچکی تھیں کیونکہ نثری نظم کو میں کسی صورت شاعری تسلیم کرنے لیے تیار نہیں تھا۔ اس دن بھی چائے وٍغیرہ سے فارغ ہوتے ہی ہم میں یہ لایعنی مگر گرماگرم بحث دوبارہ شروع ہوگئی۔ وہ مجھر قائل کرنے کی ٹھان کر آئے تھے اس لیے نثری نظم کی تعریف و توصیف میں انہوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ مگر میرا یہ کہنا تھا کہ نہیں۔ نثری نظم کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تقسیم ہند سے بھی کوئی تیس برس پہلے سے برصغیر میں رائج "ادب لطیف/انشائے لطیف" کی بھونڈی سی نقل ہے جو رابندر ناتھ ٹیگور کی "گیتان جلی" کر اردو ترجموں سے اردو میں رائج ہوئی۔
اس بحث کا کوئی نتیجہ تو نکلنا ہی نہیں تھا۔ وہ لوگ تو چلے گئے مگر اس بے تسلی اور بے نتیجہ بحث کی وجہ سے جو طبیعت میں جھلاہٹ و انتشار پیدا ہوگیا تھا اس نے مجھے بہت بے چین رکھا۔ آخر اسی جھونجھلی میں، میں (شاہد منصور) نے طبیعت کا غبار دور کرنے کے لیے "بندہ وبشر" کے عنوان سے نثری نظم کے خلاف ایک کٹیلی طنزیہ نظم لکھ ہی ڈالی۔ نظم مکمل ہوچکی اور دل کو کچھ اطمینان ہوا تو اسے ابن صفی کو سنانے کی سوجھی۔

سہہ پہر ہوچکی تھی جب میں بس سے ناظم آباد چورنگی اتر کر ابن صفی کے دفتر کی طرف بڑھا۔ موصوف حسب معمول دفتر میں دربار لگائے بیٹھے تھے۔ چار پانچ آدمیوں کا مجمع تھا اور اپنی گہری گونجیلی آواز میں استاد محبوب نرالے عالم کوئی "فارسا" قسم کی چیز سنا رہے تھے۔ میں نے چق اٹھائی اور داد دینے والوں میں شریک ہوگیا۔ استاد کی فارسا آخری دمُوں پر تھی اس لیے ختم ہوگئی۔ استاد نے ٹھنڈی چائے کا آخری گھونٹ بھرا، اپنا پورٹ فولیو اٹھایا اور اپنے اصالیوں موالیوں کے ساتھ رخصت ہوگئے۔ جب سناٹا اور تنہائی ہوگئی تو ابن صفی نے میری طرف دیکھا، دھیرے سے مسکرائے اور بولے۔ معلوم ہوتا ہے کوئی نئی چیز ہوگئی جبھی اس ڈھلتی دھوپ میں چلے آئے ہو۔ ہم نے نظم کا پرچا جیب سے نکالا، مجادلے کا مختصر احوال بیان کیا اور انہیں نظم سنانے لگا۔

ابن صفی چہرے پر نرم سی مدھم مسکراہٹ سجائے میری نظم "بندہ بشر" سنتے رہے اور موقعہ بموقعہ داد دیتے رہے اور بعض شعروں کو مکرر پڑھواتے رہے۔ نظم ختم ہوئی تو ان کے چہرے پر جیسے سورج اتر آیا اور ان کی مسکراہٹ جگمگاتی ہوئی دھوپ بن گئی۔ انہوں نے دراز سے ایک کاغذ نکالا اور مجھ سے مخاطب ہوکر بولے۔ آج تو مجھ سے بھی ایک نثری نظم سرزد ہوگئی ہے جس کا عنوان "صفر بٹا صفر" ہے، ذرا دیکھنا تو سہی کیسی ہے۔

آج صبح ایک پرانے حوالے کی تلاش میں، میں (شاہد منصور) اپنا پرانے کاغذات کا صندوق کھنگال رہا تھا کہ اچانک ایک پرانا بوسیدہ کاغذ ہاتھ آگیا۔ اس کی تہیں کھول کر دیکھا تو وہی ابن صفی کی "صفر بٹا صفر" کی نقل تھی۔ بڑی دیر تک دم بخود بیٹھا رہا۔ بیتی گھڑیاں فلم کی طرح آنکھوں کے آگے گزرتی چلی گئیں۔ بڑی دیر کے بعد میری بیوی نے آواز دی تو یاد آیا کہ میں کہاں ہوں۔
ابن صفی کا مجموعہ کلام ابھی تک نہیں چھپا ہے۔ اس لیے یہ یادگار نظم خوش ذوق قارئین کی نذر ہے۔ جہاں تک مجھے علم ہے یہ ابن صفی بلکہ اسرار ناروی کی اکلوتی نثری نظم ہے۔ اور مجھے کچھ ایسا بھی یاد پڑتا ہے کہ اس نظم کے کچھ مصرعے انہوں اپنے کسی جاسوسی ناول میں بھی استعمال کیے تھے۔

(شاہد صاحب جس ناول کا حوالہ دے رہے ہیں وہ عمران سیریز کا ناول نمبر 110 آگ کا دائرہ ہے - راشد اشرف)
آئیے ہم آپ مل کر نظم پڑھیں اور ابن صفی کی یاد تازہ کریں

"صفر بٹا صفر"


ٹیلی فون پر
مسز صائمہ سلیمان نے گہری سانس لیتے ہوئے
اپنی گونج دار آواز میں مزے لے لے کر کہا
میری جان تم غلط سمجھی ہو
بات بال پوائنٹ کی نہیں ہے
بال پوائنٹ تو عصر تازہ کی ایجاد ہے
جس نے دوات اور قلم بلکہ فاؤنٹین پین بھی
ایک عرصے سے متروک کررکھے ہیں
اب کسی کو بھی
پتلی گول مخروطی لکڑی کے سرے پر لگے ہوئے
نوک دار نب والے قلم کی ضرور نہیں
لکھنے والے تو ہر چیز سے لکھ لیتے ہیں
چاہے وہ کوئلہ ہو برش ہو یا انگلی ہو
اب تم خود ہی دیکھ لو
میرا کتا اپنی دم کو نیلی روشنائی میں ڈبو ڈبو کر
میرے شوہر کی قمیض کی پشت پر
میرا ٹیلی فون نمبر لکھ رہا ہے
ٹیلی فون کا نمبر
جس کی ابتدا صفر ہے
اور انتہا بھی
خدا جانتا ہے بس صفر ہی ہے
بس ڈائل گھومتا رہتا ہے
اور ہندسے گزرتے رہتے ہیں
ابھی تو صرف پانچواں ہندسہ چل رہا ہے
ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے
آٹا بھی چینی بھی سبزی بھی اور گوشت بھی
روپے میں قوت خرید باقی نہیں رہی ہے
ڈالر جو روز بروز مہنگا ہوتا جارہا ہے
لوگ ڈالر کمانے دبئی جارہے ہیں
پھر بےچارہ روپیہ کیا کرے
زندگی کتے کی دم ہوکر رہ گئی ہے
جو اب کبھی سیدھی نہیں ہوگی
روپیہ گول ہوتا ہے
صفر بھی گول ہوتا ہے
اور ٹیلی فون کا ڈائل بھی گول ہوتا ہے
اور گول گول گھومتا ہے
عقل کی طرح
ہندسے ختم نہیں ہوں گے
اور صفر بھی آتے ہی رہیں گے
کیونکہ ابتدا بھی صفر ہے
اور شاید انتہا بھی
لیکن یہ بیچ کے ہندسے
کیا کہا زور سے بولو
بور ہو گئی ہو
تمہارا سر صفی کہ تکرار سن سن کر چکرا رہا ہے
اچھا۔۔۔۔۔ تو پھر
بائی بائی
خدا حافظ


 
House Shahid Mansoor

Shahid Mansoor

Shahid Mansoor
Shahid Mansoor With grandson

With Rashid Ashraf

Comments

See Also Three Friends at Ibne Safi's Final Abode

 


Copyright 2005 Mohammad Hanif