IBNe SAFi 

 THE GREAT MYSTERY WRITER

 

HOME  INTRODUCTION  BIOGRAPHY  WORKS  POETRY  AUDIO  FEEDBACK  FAQ  DETECTIVES  VILLAINS 

            WITS & WISDOM  PHOTO GALLERY  DHAMAKA  PICTORIAL  ESSAYS  TITLES  OBITUARY  CREDITS  EMAIL

 
  Back to Essays

Back to 31st Anniversary

 ادبی شہرت یا عوامی مقبولیت؟

  عارف وقار

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

23July 2011 

                                                         ابنِ صفی معروف مصور مشیر صدیقی مرحوم کی نظر میں                            

   

 

آپ رضیہ بٹ اور سیما غزل کی کہانیوں میں کتنی ہی دلچسپی کیوں نہ لیتے ہوں، کسی سنجیدہ ادبی محفل میں آپ اُن کے ذکر سے گریز ہی کریں گے اور قرۃالعین حیدر اگر آپ کے سر سے بھی گزر جاتی ہو تو اسکی فکشن کے بارے میں آپ اپنی رائے ضرور رجسٹر کرانا چاہیں گے۔

یہ رویّہ ہمارے ذہنوں میں ادبِ عالیہ اور مقبولِ عام ادب کی تقسیم نے پیدا کیا ہے۔ اور یہ محض اُردو ادب سے مخصوص نہیں بلکہ دُنیا بھر کی زبانوں میں مقبول اور ماوراء کی یہ تقسیم موجود ہے۔

1901 میں پیدا ہونے والی اور تقریباً 100 برس کی عمر پانے والی انگریز مصنفہ باربرا کارٹ لینڈ 723 کتابوں کی خالق ہیں جن میں سے بیشتر ناول ہیں۔ 1983 میں محض ایک برس کے دوران انھوں نے 23 ناول تحریر کئے اور یوں اس میدان میں ایک ریکارڈ قائم کر دیا۔

اگر کتابوں کی بِکری کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کی تاریخ میں جاسوسی ناولوں کی مصنفہ اگاتھا کرسٹی  پہلے نمبر پر ہیں جن کے 80 ناولوں کی اب تک چار ارب سے زیادہ جِلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ شاید یہ محض اتفاق نہ ہو کہ اُردو کا مقبول ترین ناول نگار بھی اگاتھا کرسٹی ہی کے شعبے کا آدمی تھا یعنی جُرم و سزا اور جاسوسی کے موضوعات پر کہانیاں لکھنے والا قلم کار اسرار احمد جو ابنِ صفی کے قلمی نام سے مشہور ہوا۔ 26 جولائی 1928 کو یو پی کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے اس بچے نے زمانہء طالب علمی ہی میں قلم کے جوہر دکھانے شروع کر دیئے تھے۔

1948 میں بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اسرار احمد نے لکھنے کی جانب سنجیدگی سے توجہ دی۔ اُن کی پہلی کہانی ٰ ٰ فرار ٰ ٰ نکہت نامی جریدے میں چھپی جو اُن کے دوستوں نے جاری کیا تھا۔ انھی دوستوں کی مدد سے اسرار احمد نے ہر ماہ ایک جاسوسی ناول شائع کرنے کا پروگرام شروع کیا اور اس سلسلے کا نام جاسوسی دنیا رکھا۔ یہی وہ موڑ تھا جب اسرار احمد نے ابنِ صفی کا نام اختیار کر لیا اور جاسوسی ناول نگاری کو ایک مستقل پیشے کے طور پر اپنایا۔

اُن دنوں اردو ادب میں جاسوسی کہانیوں کا کوئی مقام نہ تھا۔ تیرتھ رام فیروز پوری نے کچھ مغربی کہانیوں کو اُردو کا جامہ ضرور پہنایا تھا لیکن سِفالِ ہند سے مِیناوجام پیدا کرنے کا خیال ابھی کسی کو نہ آیا تھا۔ ابنِ صفی کا اولین ناول دلیر مجرم بھی اگرچہ ایک بیرونی ناول سے ماخوذ تھا لیکن انھوں نے جلد ہی اپنے لئے ایک منفرد راستہ چن لیا۔ جاسوسی دنیا کے لئے اُن کے تخلیق کردہ کردار کرنل فریدی اور کیپٹن حمید جلد ہی عوام کی من پسند شخصیتیں بن گئیں اور ہر کہانی کے بعد لوگوں کو اگلی کہانی کا انتظار رہنے لگا۔ فریدی اور حمید کے نام یوں زبان زدِ خاص و عام ہوئے کہ آج ابنِ صفی کے بہت سے مداحوں کو بھی اِن کے مکمل نام یاد نہیں ہیں یعنی احمد کمال فریدی اور ساجد حمید۔

اگر کبھی اُردو فکشن کے ہر دِل عزیز کرداروں کی تاریخ مرتب ہوئی تو یہ دونوں نام سنہری اور جلی حروف میں لکھے جائیں گے اور اِن میں ایک تیسرے نام کا اضافہ بھی ہوگا جسکا ذکر ہم کچھ دیر میں کرنے والے ہیں۔

1952 میں ابنِ صفی پاکستان آگئے اور کچھ عرصے بعد کراچی میں اسرار پبلیکیشنز کا آغاز کیا جسکے بینر تلے جاسوسی دنیا سلسلے کے ناول بیک وقت کراچی اور الہ آباد سے شائع ہونے لگے۔

1955 میں ابنِ صفی نے وہ لازوال کردار تخلیق کیا جسکی طرف ہم نے ابھی اشارہ کیا تھا یعنی علی عمران کا کردار۔

عمران کا کردار شاید پاکستان آکر ہی تخلیق ہو سکتا تھا۔ جن لوگوں نے ابنِ صفی کے کام کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے اُن کا کہنا ہے کہ جاسوسی دنیا کے ناولوں کی فضا اگرچہ محض تخیّل کی پیداوار ہے لیکن اگر اس کا موازنہ عمران سیریز کی فضا سے کیا جائے تو جلد ہی احساس ہوگا کہ حمید اور فریدی ہندوستان کے ماحول میں سرگرمِ عمل ہیں جبکہ عمران سیریز کا ماحول پاکستان سے ماخوذ ہے۔

عمران کے کردار کا گہرائی سے مطالعہ کرنے پر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اُس کا بے فِکرا پن اور لا اُبالی طبعیت حمید کے غیر سنجیدہ رویّے سے بالکل مختلف ہے۔ حمید دنیا اور اسکے دھندوں سے جُڑا ہوا شخص ہے اور زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کو تسلیم کرتا ہے جبکہ عمران کے نزدیک یہ زندگی ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ وہ اِس حیات مستعار کو ایک خاص حد سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ عمران کا معروف قول ہے آدمی سنجیدہ ہو کر کیا کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ ایک دن اسے اپنی سنجیدگی سمیت دفن ہو جانا پڑے گا۔

ابنِ صفی کا پہلا ناول اگرچہ ایک غیر ملکی کہانی سے ماخوذ تھا لیکن انھوں نے جلد ہی اپنا منفرد راستہ اپنا لیا

کچھ جدید نقاد تو یہاں تک کہتے ہیں کہ عمران کی عدم سنجیدگی میں وجودیت کا کرب لہریں لے رہا ہے۔

1957 سے 1960 تک کے تین برس ابنِ صفی کے لئے تخلیقی وفور کا زمانہ تھا۔ فریدی اور حمید کی جاسوسی دنیا کے ساتھ ساتھ اُن کی عمران سیریز بھی عروج پر تھی۔ جون 1960 تک جاسوسی دنیا کے 88 اور عمران سیریز کے 41 ناول شائع ہوچکے تھے۔ ان کے علاوہ جاسوسی دنیا کا ایک میگزین ایڈیشن بھی شروع کیا گیا۔ اُس دور میں ابنِ صفی کے قلم سے ہر ماہ تین چار ناول برآمد ہو رہے تھے۔ اس ناروا بوجھ نے پہلے اُن کی جسمانی صحت اور بعد میں ذہنی صحت پر بہت بُرا اثر ڈالا۔ اُن کی سوچ بکھر گئی حقیقت اور افسانے کی دنیائیں ذہن میں گڈ مڈ ہو گئیں اور یہ ذہنی خلفشار بالآخر ایک معروف عارضے میں بدل گیا جسے ماہریںِ نفسیات سکزوفینیا کا نام دیتے ہیں۔

ذہنی وارفتگی کا یہ عالم تین برس تک جاری رہا۔ ابنِ صفی کے قارئین کی بے چینی دیکھتے ہوئے کئی جعلی مُصنف اس خلا کو پر کرنے کے لئے میدان میں نکل آئے چنانچہ این صفی (نجمہ صفی) اور ابّن صفی جیسے ملتے جلتے نام اُسی دور کا یاد گار ہیں۔ اہلِ خانہ کی مسلسل دیکھ بھال اور ڈاکٹروں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں تین برس بعد ابنِ صفی کو اس منحوس بیماری سے نجات ملی۔ 25 نومبر 1963 کو ایک بڑے دھماکے سے اُن کا نیا ناول ڈیڑھ متوالے منظرِ عام پر آیا۔ بھارت میں اس ناول کا افتتاح لال بہادر شاستری نے کیا (جو بعد میں بھارت کے وزیراعظم بنے تھے)

زندگی کے اس دوسرے دور میں بھی مصنف نے بھرپور تخلیقی کردار ادا کیا اور سولہ سترہ برس تک مسلسل لکھتے رہے۔ 1979 میں انھیں معدے کی تکلیف شروع ہوگئی جو بعد میں سرطان کا جان لیوا عارضہ ثابت ہوئی 26 جولائی 1980 کو صبح صادق کے وقت جب وہ اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے تو عمران سیریز کے ناول آخری آدمی کا نامکمل مسودہ اُن کے سرہانے پڑا تھا۔

اُن کے ایک ناول پر مبنی فلم دھماکہ اُن کی زندگی ہی میں بن گئی تھی اور پی ٹی وی نے ان کے ناول ڈاکٹر دعا گو کو ایک ڈرامے کی شکل میں بھی پیش کیا تھا۔

بھارت میں اُن کے تمام ناولوں کا ہندی میں ترجمہ ہو چکا ہے اور اُن کے چار ناولوں کا حال ہی میں شمس الرحمٰن فاروقی نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔

جاسوسی کہانیاں لکھنے کے علاوہ ابنِ صفی غزل کے ایک اچھے شاعر بھی تھے اور نثر میں اُن کا میدان طنز و مزاح تھا۔ اُردو گرامر کے بارے میں ان کی ایک طنزیہ مزاحیہ تحریر حال ہی میں نظر سے گزری ہے جس سے اُن کے قلم کی کاٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔

کراچی کے محقق راشد اشرف کا کہنا ہے کہ ابنِ صفی کے ناولوں کی کل تعداد 245 ہے۔ لیکن اُن کے آٹھ ناول ایسے بھی ہیں جن کا جرم و سزا یا جاسوسی کے موضوعات سے کوئی تعلق نہیں۔ راشد اشرف کے بقول ابنِ صفی کی مزاحیہ تحریریں ڈپلومیٹ مرغ نامی مجموعے میں بہت عرصہ قبل شائع ہوگئی تھیں البتہ ابنِ صفی کی شاعری کا مجموعہ ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آسکا۔

شاعری کو جمع کرنے اور ایک مجموعے کی شکل میں شائع کرنے کا بیڑا ابنِ صفی کے فرزند ڈاکٹر احمد صفی نے اٹھا رکھا ہے اور توقع ہے کہ یہ مجموعہ عنقریب مارکیٹ میں آجائے گا۔

http://www.bbc.co.uk/urdu/columns/2011/07/110723_ibn-e-safi_tf.shtml

 


Copyright 2005 Mohammad Hanif