IBNe SAFi 

 THE GREAT MYSTERY WRITER

 

HOME  INTRODUCTION  BIOGRAPHY  WORKS  POETRY  AUDIO  FEEDBACK  FAQ  DETECTIVES  VILLAINS 

            WITS & WISDOM  PHOTO GALLERY  DHAMAKA  PICTORIAL  ESSAYS  TITLES  OBITUARY  CREDITS  EMAIL

              

                                  Memories  of   Rashid Ashraf                 Back

            

Rashid Ashraf

zest70pk@gmail.com

یہ بات ہے سن 2008 کی جب ہمارے دوست منیر احسن نے ،جو ابن صفی صاحب کے انتہائی قریبی عزیز ہیں، اپنی خاموش طبع کے سبب ہم پر عرصہ دو سال کے بعد ایک دن اچانک انکشاف کیا کہ ابن صفی ان کے اپنے ہیں۔ یہ بات ہم پر گویا ایک ایٹم بم کی طرح نازل ہوئی۔ ابن صفی تو اوائل عمری ہی سے گویا ہمارا پیشن ہیں اور یوں لگا کہ جیسے منزل مل گئی۔

“ارے صاحب تو پہلے کیوں نہیں بتایا”

“آپ نے پہلے کیوں نہیں پوچھا”

“چلیے تو اب ہمیں ملوائیے”

“لیکن کس سے ملواؤں”

یوں اس گفت و شنید سے پتہ چلا کہ خانوادہ ابن صفی میں کون کون ہے اور کہاں کہاں ہے۔ معلوم ہوا کہ ہم صرف ڈاکٹر احمد صفی سے مل سکتے ہیں کہ صفی صاحب کے باقی تمام فرزند پاکستان سے باہر مقیم ہیں۔ یاد رہے کہ یہاں بات ابرار و افتخار صفی صاحبان کی ہورہی ہے کہ صفی صاحب کے بڑے بیٹے، ڈاکٹر ایثار صفی سن دو ھزار پانچ میں قضائے الہی سے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ منیر احسن صاحب کے ہم یوں بھی احسان مند ہیں کہ اس ملاقات کے بعد انہوں نے اس قبرستان تک بھی ہماری رہنمائی کی کہ جہاں صفی صاحب مدفون ہیں۔اور اس طرح ہمیں اپنے چہیتے مصنف کے لیے فاتحہ خوانی کرنے کا موقع میسر آیا

تو یوں ہم منیر احسن کے ہمراہ ایک شام احمد صفی صاحب کے گھر جادھمکے۔

یہاں احمد صاحب کا ایک مختصر سا تعارف کراتے چلیں۔ احمد صفی بنیادی طور پر ایک میکینیکل انجینئر ہیں۔ کیلیفورنیا سے ماسٹرز اور پھر مزید اعلی تعلیم نیویارک کے رینزیلئر پولی ٹیکنیک انسٹیوٹ سے۔ سن 2003 میں کراچی آمد اور تاحال کراچی ہی میں مقیم۔ ان دنوں ایک کمپنی میں مینیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے پر ہیں۔ ملاقات سے قبل یہ بات ذہن میں تھی کہ اگر احمد صاحب کو اردو ادب سے بالکل لگاؤ نہ ہوا تو کیا ہوگا، پھر تو گفتگو کا مزہ جاتا رہے گا لیکن پھر یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ ہیں تو آخر ہمارے چہیتے مصنف ابن صفی صاحب کے فرزند کہ یہ تعلق بھی کچھ ایسا کم تو نہیں۔ (یادش بخیر! ایک بار مشتاق احمد یوسفی سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ کے بچے آپ کی تحریریں پڑھتے ہیں؟ یوسفی صاحب نے جواب دیا کہ میری بیٹی سے کسی نے یہی سوال کیا تھا اور اس نے انگریزی میں جواب میں دیا کہ “ہاں میں سنا ہے کہ پاپا کچھ ہیومر وٍغیرہ لکھتے ہیں)

لیکن نہیں صاحب، وہاں ہمارے سامنے تو ایک نابغہ روزگار شخصیت براجمان تھی۔ شاعری سے شغف، نثر میں منجھا ہوا عمل دخل، اردو اور انگریزی ادب پر گہری نظر۔ اور تو اور اپنے والد گرامی کی کتابوں سے مکمل طور پر آشنا۔ کراچی کا تھکا دینے والا معمول، راستوں کی رکاوٹیں، آفس سے آئے تھے اور لباس بھی تبدیل نہیں کیا تھا لیکن کم و بیش ڈھائی گھنٹے ہمیں وقت دیا۔ ہم سوال کرتے گئے اور وہ جواب دیتے گئے، بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر وہ بات پوچھ لیں جو صفی صاحب کے ناولز کے حوالے سے اوائل عمری ہی سے ذہن کے گوشوں میں ڈیرے ڈالے تھی۔ ابن صفی کیسے لکھتے تھے، بچوں سے رویہ کیسا تھا، ذاتی پسند نا پسند، رہائش، ناول کے پلاٹ کیسے ذہن میں آتے تھے۔ احمد صفی جواب دیتے گئے۔

ایک موقع پر سوال کیا کہ صفی صاحب عمران سیریز میں تلے ہوئے جھینگے بمعہ کافی اور سارڈینا فش کا بہت ذکر کرتے تھے کہ یہ علی عمران کی مرغوب ڈش تھی۔ احمد صاحب کے جواب سے تصدیق ہوئی کہ واقعی یہ صفی صاحب کو پسند تھیں۔

ابن صفی صاحب پر 1995 میں نئے افق میں شائع شدہ اپنا مضمون “قلم کا قرض” دیا۔ کھبی شوق و جنون میں صفی صاحب کے ڈائجسٹ میں چھپنے والے چند ناولز کو مضبوط جلد کرواکر رکھا تھا، اس پر احمد صاحب کے دستخط لیے اور یوں فاتحانہ انداز میں خوشی سے سرشار واپس لوٹے کہ سب کو اس کی روداد سنائیں گے۔

وقت گزرتا چلا گیا، قریب آٹھ ماہ بیت گئے کہ ایک دن انٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹ دیکھی کہ جہاں لوگوں نے ابن صفی کی عمران و فریدی سیریز کے پورے پورے ناولز کی پی ڈی ایف کاپیاں بنا کر شامل کی ہوئی تھیں، ایک عجب ہی دنیا تھی کہ جہاں لوگوں کی بے تحاشا آمدورفت تھی۔ پم کیوں پیچھے رہیں، آؤ دیکھا نہ تاؤ، صفی صاحب کے کئی ناولز ایک فولڈر بنا کر شامل کرڈالے، دو چار حوصلہ افزا تبصرے آگئے تو لرادے کو اور مہمیز ملی، جوش خطابت میں اس سائٹ پر یہ اشتہار دے ڈالا کہ اگر طبیعت سیر نہ ہوئی ہو تو جن صاحب کو کوئی خاص ناول درکار ہو، نام لے کر طلب کریں۔ ہم ہیں نا۔ اتنے میں بنگلہ دیش سے درخواست آئی کہ فرہاد 59 انٹرنیٹ پر کہیں دستاب نہیں ہے، لیجیے صاحب، راشد اشرف، فرہاد 59 کی اسکیننگ پر جٹ (براہ کرم لفظ جٹ کو پیش کے ساتھ پڑھیے گا، زبر کے ساتھ نہیں — ویسے کام تو جٹوں والا ہی تھا ) گئے۔

ان ہی دنوں میں ایک شام کمپیوٹر پر اپنے برقی پیٍغاموں کو ٹٹولا تو احمد صفی صاحب کا نام جگمگا رہا تھا، ارے واہ احمد صاحب کو ہم ابھی تک یاد ہیں۔ لیکن صاحب جب پیغام کھولا تو گویا ‘چراغوں میں روشنی نہ رہی‘ —- آپ سے کیا چھپانا، خود ہی پڑھ لیجیے

Dear Rashid: AA I was reporting Copyright Infringement to eSnips.com and stumbled upon first on a Mr…..’s page where he had uploaded many pdfs of Ibne Safi Novels (illegally so!) and I was really hurt to see your appreciation on this “Effort” of his… Then I followed it to your profile and saw your open offer: “I have added two Jasoosi Dunya Novels. If anybody want to have any specific novel, just tell me —- ” This hurt me more…I have known and admired you for your love and respect for Ibne Safi and his novels. I just have to tell you that these works are copyright materials and copying them in any form print/electronic is illegal. M/s Asrar Publications is actively publishing these novels and all rights are reserved.

So as a first thing, I would request you to Volantarily remove the pdf versions or links to those, from your web pages and uphold the rights of your favourite author whose main aim was to propagate the Respect of Law (Qanoon ka Ehtraam).

If you would not stand side by side with me and the Ibne Safi family which includes your dear friend Muneer, then we would be left to think that Ibne Safi Fans are fans for the sake of reading his works but not learning from it.I hope you would consider the point of view of the copyright holders and would be amongst the protectors of the rights not violators of the same. Hope to see a positive response from you.

Sincerely,

Ahmad Safi
 

دیکھا دوستوں، بقول شاعر ‘پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات‘ — گھڑوں پانی پڑ گیا، سچ پوچھو تو طبیعت مضمحل ہو گئی کہ یہ کیا کر بیٹھے۔

خیر، تھوڑا سنبھالا کیا اور فورا” جواب دیا کہ معافی چاہتے ہیں، نتائج سے بےخبر ہم سے انجانے میں کوتاہی ہوئی، کل آپ مذکورہ فولڈر کو ویب سائٹ پر نہ پائیں گے۔

یوں فولڈر تو حذف ہوا لیکن احمد صفی صاحب سے جو تعلق بنا وہ دیرپا ثابت ہوا۔ یہ ضرور ہے کہ ہم نے اس کاروائی کے بعد ایک عدد پیغام میں یہ گلہ بھی کیا کہ ہم نے تو آپ کی بات مانی لیکن انٹرنیٹ پر یہ جو سینکڑوں کی تعداد میں صفی صاحب کے ناولز پر مبنی فولڈرز موجود ہیں ان کا آپ کیا کریں گے ؟ اس قدرے چبھتے ہوئے سوال کا احمد صاحب نے ٹھنڈے لہجے جو جواب دیا وہ اس مفہوم کا غماز تھا کہ

شکوہ ظلمت شب سے تو بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

لیجیے صاحب، وہ الجھن بھی دور ہوئی اور ہوں ہم بقول احمد صفی صاحب، ابن صفی کی ‘ایکسٹینڈڈ فیملی’ کا حصہ بن گئے۔ الحمدللہ اس تمام قضیے سے ہم نے جناب محمد حنیف (ایڈمنسٹریٹر ابن صفی ڈاٹ انفو) کو بھی آگاہ رکھا۔ حنیف صاحب 2008 کے اوائل میں ہم سے ملنے ہماری رہائش گاہ پر تشریف لائے تھے اور تب سے ان سے ایک خاص طرح کا قلبی لگاؤ بن گیا جو الحمد للہ آج تک جاری و ساری ہے۔

یہاں سے ایک دوسری داستان کا آغاز ہوتا ہے جو ہماری ابن صفی صاحب پر ویب سائٹ وادی اردو کے اجرا کا سبب بنا۔ احمد صفی صاحب سے تعلق استوار ہوتا چلا گیا کہ جس کی بنیاد کاپی رائٹ کے معاملے میں ان کی کشادہ دلی سے پڑی تھی۔ اور پھر ہمارے ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ گیا کہ اب کوئی ایسا کام کیا جائے کہ جس سے اس ‘عظیم حماقت‘ کا ازالہ بھی ہوسکے۔ ویب سائٹ کی شروعات ہوئی اور احمد صفی صاحب کی حوصلہ افزائی شامل حال رہی۔ ادھر محمد حنیف صاحب بھی دل بڑھا رہے تھے۔

اب کیفیت یہ ہے کہ آج ٹی وی میں ابن صفی صاحب کی برسی کے دن نشر ہونے والی خبر سے لے کر، کراچی آرٹس کونسل میں منعقدہ پروگرام ‘ابن صفی – ایک مکالمہ ہماری روزنامہ جنگ میں لکھی گئی رپورٹ تک اور پھر معاصر بزنس ریکارڈر میں ہمارے انگریزی میں لکھے گئے ابن صفی صاحب پر مضمون سے لے کر ایف ایم ریڈیو چینل 105 پر نشر ہونے والے احمد صفی صاحب کے 26 نومبر 2009 کے انٹرویو تک، کئی ایسی کامیابیاں ہیں جن میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس شرمندگی کا بڑی حد تک ازالہ ہو چلا ہے جو کاپی رائٹ کے قضیے سے شروع ہوئی تھی۔

یہاں ہم پڑھنے والوں کو بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری صفی صاحب کے ناولز کی کاپی رائٹ حیثیت کے حوالے سے انٹرنیٹ پر چلائی گئی مہم (حقیر سی کوشش) کا سب سے پہلے حوصلہ افزا جواب جناب باذوق صاحب نے مئی 2009 میں دیا اور عملی طور پر ایسے تمام روابط ہٹا دیے جو ان کی سائٹ پر موجود تھے۔ مزید یہ کہ ماشاء اللہ ابن صفی بلاگ پوسٹ بھی ایسے تمام روابط سے پاک ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی ایسے دوست سامنے آئے جنہوں نے اپنے “ای اسنپس” نامی سائٹ پر موجود اپنے فولڈر محض ہماری درخواست پر ہٹا ڈالے۔ ان میں سب سے پہلے تو عزیر عبداللہ صاحب ہیں جو صفی صاحب کے پرستار ہیں اور ڈھاکا میں رہائش پذیر ہیں، ان کے علاوہ ایک صاحب ‘ایکسٹو‘ نامی (یہ ان کی آئی ڈی) اور ‘صفی فین‘ بھی ان میں شامل ہیں۔

یہ بھی بتاتے چلیں کہ احمد صفی صاحب نے ابن صفی پر اولین ویب سائٹ ابن صفی ڈاٹ کام کا آغاز سن 1997 میں کیا تھا، مذکورہ سائٹ چند سال بعد ہی “ہیک” کرلی گئی اور پھر محمد حنیف صاحب نے ابن صفی ڈاٹ انفو کا اجرا سن 2005 میں احمد صفی صاحب کی باضابطہ اجازت و رہنمائی کے ساتھ کیا، یوں “ہیک شدہ” ابن صفی ڈاٹ کام کا تمام قیمتی مواد ابن صفی ڈاٹ انفو پر منتقل ہوا اور پھر بتدریج اس میں نکھار آتا چلا گیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ وادی اردو کو شروع کرتے وقت یہ بات ذہن میں تھی اور ہمیشہ رہے گی کہ ابن صفی صاحب پر آفیشل ویب سائٹ بہرصورت ابن صفی ڈاٹ انفو ہی ہے, یہ ضرور ہے کہ حنیف صاحب ہمیں کسی قابل سمجھتے ہوئے ہمارا کام بڑی محبت سے ابن صفی ڈاٹ انفو پر شامل کرلیتے ہیں اور یوں یہ حقیر سی کوشش معتبر بن جاتی ہے۔

احمد صفی صاحب کی مسلسل حوصلہ افزائی کی بنا پر پھر یوں ہوا کہ ہم نے 1956 کے عمران سیریز کے اوریجنل ناول بھیانک آدمی پر درج ابن صفی صاحب کے لالو کھیت (اب لیاقت آباد) کے مکان کے پتے کی مدد سے وہ مکان ڈھونڈ نکالا جس میں صفی صاحب ھندوستان کی تقسیم کے بعد آکر 1953 سے 1957 تک رہائش پذیر رہے تھے۔ اس مکان کی تصاویر وادی اردو اور ابن صفی ڈاٹ انفو پر موجود ہیں۔ اس کے بعد باری آئی ناظم آباد کے اس گھر کی جہاں صفی صاحب 1957 سے 1980 تک اپنی رحلت کے وقت تک مقیم رہے۔ اس گھر کی تصاویر لینا ایک دشوار گزار مرحلہ تھا جو دو ہفتے کے کڑے اور صبر آزما انتظار کے بعد ہماری ہٹ دھرمی کی بنا پر تکمیل پایا۔ (ہمیں یقین ہے کہ مذکورہ گھر کے مالکان دوبارہ ایسے کسی بھی مطالبے پر خون ریزی پر آمادہ ہو جائیں گے) ۔۔۔۔ اب کیا بتائیں آپ کو، وہ بھلے لوگ گھر میں داخل ہی نہ ہونے دیتے تھے لیکن جیسے تیسے اپنا کام نکلوانا بھی ہم نے علی عمران ہی سے تو سیکھا ہے۔

لیجیے یہاں ناظم آباد کے اسی گھر کے حوالے سے ہماری ایک تک بندی ملاحظہ ہو جو گلزار سے متاثر ہو کر کہی گئی ہے

ناظم آباد دو نمبر کے محلے کی وہ گلیاں

کچھ فاصلے پر مچھو پان والے کے نکڑ پر دنیا بھر کے قصیدے ۔۔

اور گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ واہ واہ کی صدائیں

آنگن کی دیوار پر جھولتی بوگن ویلیا کی بیل ۔۔۔۔

ایک بکری کے ممیانے کی آواز

گھر کے آنگن میں کھیلتے سات ننھے بہن بھائی ۔۔۔۔۔

اور دھندلائی ہوئی شام کے اندھیرےایسے دیواروں سے سر جوڑ کے چلتے ہیں یہاں ۔۔۔۔

گھر میں موجود ْاماںْ جیسےاپنے ضعیف ہاتھوں سے پوتوں کے لیے دروازہ کھولے

اسی بظاہر عام سی نظر آنے والی ناظم آباد کی گلی سے ۔۔۔۔

ایک ترتیب چراغوں کی نمودار ہوتی ہے

سری ادب کا لازوال سفر آگے بڑھتا ہے

لیکن یہاں سمپورن سنگھ کے مرزانوشہ کا نہیں بلکہ اسرار احمد المعروف ابن صفی کا پتہ ملتا ہے

سلسلہ آگے بڑھا اور ایک رات قریب گیارہ بجے ایک صاحب (محمد صادق پرستار ابن صفی) کا فون آیا کہنے لگے کہ میں اس وقت کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں موجود ہوں، یہاں ایک بینر لگا ہوا ہے جس پر درج یے ‘ابن صفی آئی کلینک کا عنقریب افتتاح” اور میں حیران ہو کر آپ کو مطلع کر رہا ہوں۔ ہم نے کہا کہ حضور، آپ نے ہمیں بھی حیران کر دیا۔ خیر اگلے روز ہم ویاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسے ڈاکٹر صاحب کا عزم ہے جو کراچی کے ایک اسپتال میں ابن صفی کے مرحوم صاحبزادے ڈاکٹر ایثار صفی کے ہمراہ قریب سات برس تک نوکری کرتے ریے تھے اور ڈاکٹر ایثار صفی کی دیرینہ خواہش کی تکمیل میں انہوں نے مذکورہ کلینک کی شروعات کا ارادہ کیا ہے۔ تادم تحریر، یہ کلینک شروع ہوچکا ہے اور اچھا چل رہا یے۔ وادی اردو پر اس کی تفصیلات بمعہ تصاویر کے دیکھی جاسکتی ہیں۔

کاپی رائٹ کے معاملے میں احمد صفی صاحب کی بات ہمیشہ پیش نظر رہی اور
وادی اردو کے سلسلے میں جناب ایج اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی اور ان سے ان کے 1972 میں نکالے گئے الف لیلہ ڈائجسٹ کے ابن صفی نمبر کو اسکین کرکے شامل ویب سائٹ کرنے کی اجازت طلب کی گئی جو انہوں نے بخوشی دے دی۔

اسی طرح مشتاق احمد قریشی صاحب سے بھی ویب سائٹ پر موجود نئے افق کے ابن صفی نمبرز کو اسکین کرکے شامل کرنے کی اجازت طلب کی گئی

دریں اثنا، احمد صفی صاحب نے 2009 میں معروف ویب سائٹ “فیس بک” پر ابن صفی کے خاص صفحے کا اجرا کیا جسے راتوں رات مقبولیت حاصل ہوئی اور اب اس کے پرستاروں کی تعداد پانچ سو کے قریب پہنچنے والی ہے۔

یونہی ایک روز خیال آیا کہ جلد یا بدیر، ایک دن کراچی یونیورسٹی میں ابن صفی صاحب پر پی ایچ ڈی ضرور کی جائے گی۔ یہ خیال دل میں جڑ پکڑتا گیا اور ایک روز ہم نے ابن صفی پر سوالنامہ/گائیڈ لائنز برائے پی ایچ ڈی (Questionnaire / Guidelines for Ph.D on Ibne Safi) پر کام شروع کرڈالا۔ حسب معمول احمد صفی صاحب کا عملی تعاون اس میں شامل رہا۔ مذکورہ سوالنامے کو ہم نے ڈاکٹر کرسٹینا اوسٹرہیلڈ (جرمنی میں اردو کی پرفییسر اور نئی دہلی میں ابن صفی پر مقالہ پڑھنے والی محقق) اور پرفییسر شمس الرحمان فاروقی (مشہور ادیب و شاعر، مقیم ھندوستان) کو نظر ثانی کی غرض سے ارسال کیا تھا اور ان تمام اہل علم حضرات نے ہمیں اپنے مشوروں نے نوازا۔ مزید یہ کہ نارویجیئن پروفیسر فن تھیسین (ابن صفی پر کام کے حوالے سے معروف) کو بھی حال ہی میں بھیجا ہے۔

ایک اہم بات جس کا ذکر کرتے چلیں کہ ابن صفی صاحب کے حوالے سے ہمارا رابطہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب سے ہوا جنہیں دنیا محسن پاکستان کے حوالے سے جانتی ہے، ڈاکٹر صاحب نے ہمیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ بھی ابن صفی صاحب کو پڑھا کرتے تھے، ڈاکٹر صاحب نے ہم سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر ابن صفی صاحب پر مضمون لکھیں گے۔ ایسا ہی ایک وعدہ ہم سے کالم نگار جناب یاسر پیرزادہ نے، جو جناب عطاالحق قاسمی صاحب کے صاحبزادے ہیں، حال ہی میں کیا ہے کہ یاسر بھی ابن صفی صاحب کے پرستاروں میں سے ہیں۔

ابن صفی صاحب کی اوریجنل کتب کا حصول ہمیشہ سے ایک سلگتی ہوئی آرزو رہی تھی۔ پچھلے دنوں شام ڈھلے کراچی کی زمستانی ھواوں کے بیچ لالٹین کی روشنی میں یہ آرزو پوری ہوئی۔ گلشن اقبال میں واقع ممتاز منزل کے پرانی کتابوں کے ٹھکانے پر ایک کتب شناس ٹھیلے دو روز قبل ہمیں اطلاع دے چکا تھا کہ صفی صاحب کی 140 کتب آیا چاہتی ہیں۔ لگ بھگ 25 عمران اور 10 جاسوسی دنیا ہاتھ لگیں اور تمام کی تمام اوریجنل سرورق کے ساتھ۔ چالیس برس پرانی کتب اور تمام اس حالت میں کہ ایک بار بھی نہ پڑھی گئی تھیں۔ نا معلوم کیسے زمانے کی دستبرد سے محفوظ رہ گئی تھیں۔ چار کتب کو کتابی کیڑے نے کچھ ایسے چاٹا تھا کہ گویا کسی نے برف توڑنے والے سوئے سے برابر برابر چھید ڈالا ھو لیکن ایک احتیاط اس میں بھی لازم ٹھہری کہ پڑھنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ (کتب شناس کیڑے ۔ خوش رھو)۔ جاسوسی دنیا کے ” اونچا شکار” سے کاتب کا پتہ ملتا یے۔ احمد الہ خان سندیلوی ہیں (ان کا ذکر احمد صفی صاحب نے اپنے مخزن کے مضمون میں کیا ہے)۔ صفی صاحب کے دستخط چھبیس دسمبر انیس سو اٹھاون کے ہیں، سالانہ مع رجسٹری ساڑھے تیرہ روپے اور غیر ممالک کے لیے اکیس شلنگ۔ ابن صفی صاحب کی 1960 کی بیماری کے دوران کا اور ڈیڑھ متوالے کی اشاعت سےقبل ان کا (صفی صاحب کا) لکھا ہوا کسی آفتاب ناصری کی کتاب رات کا جادوگر کا پیشرس نظر سے گزرا۔ رات کا جادوگر نکہت پبلیکیشنز کا ناول ایڈیشن ہے جو کراچی سے اسرار پبلیکیشنز نے اپنے امتیازی نشان کے ساتھ شائع کیا تھا۔ پیشرس میں ابن صفی اپنی بیماری کا ذکر کرتے ہیں اور ڈیڑھ متوالے کی آمد کی نوید سناتے ہیں اور پڑھنے والوں سے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔

کتابوں کا ذکر چلا ہے تو یہ خوش کن خبر بھی قاریئن کو سناتے چلیں کہ حال ہی میں مشتاق احمد قریشی صاحب نے ابن صفی و ابوالخیر کشفی صاحبان پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام “دو بڑے” ہے۔ مذکورہ کتاب ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی ہے لیکن عنقریب دستیاب ہوگی۔ کتاب “دو بڑے” میں قریشی صاحب نے ابوالخیر کشفی کے ان قلمی تبصروں کو یکجا کردیا ہے جو کشفی صاحب نے صفی صاحب کے مختلف ناولز کے مطالعے کے دوران ان پر لکھے تھے۔

ابن صفی صاحب کے ناولز کے سرورق بنانے والے آرٹسٹ جناب ولائیت احمد سے ملاقات بھی احمد صفی صاحب کے توسط سے ہی ہوئی اور پھر ان ہی دنوں ولائیت صاحب کے قریبی عزیز اور کرسچین کالج الہ آباد میں ابن صفی صاحب کے استاد پروفیسر انوار الحق صاحب کے صاحبزادے جناب انوار صدیقی (انکا، اقابلا اور سونا گھاٹ کا پجاری جیسے مشہور سلسلوں کے مصنف) سے ملاقات بھی اس بات کی دلیل ٹھہری کہ ابن صفی صاحب سے تعلق رکھنے والے حضرات کی کھوج لگاکر انہیں منظر عام پر لانا گویا ایک خواب کی تکمیل ہے۔ ایک ایسا خواب کہ جس کی خواہش ہم نے برسوں پہلے 1995 میں اپنے مضمون ‘قلم کا قرض‘ کے آختتامیے میں کچھ اس طرح سے کی تھی

میں ان لوگوں کے انتظار میں ہوں جو ابن صفی کو پڑھیں گے، اس کی باتیں مجھ سے کریں گے، اس کے پیغام کو سمجھیں گے۔

میں ان کی راہ دیکھتا ہوں کہ جو ابھی ابن صفی سے ناواقف ہیں، اور جنہیں کسی نہ کسی موڑ پر اس سے متعارف ہونا ہے۔

میں ان لوگوں کو دیکھ کر سکون محسوس کرنا چاہتا ہوں۔

وہ آرہے ہیں، وہ آگئے ہیں، تم آگئے۔ تم نے بہت انتظار کرایا۔ میں راشد ہوں۔ اچھا اب میں چلتا ہوں۔

 

راشد اشرف
دسمبر 16، سن دو ھزار نو

 


Copyright © 2005 Mohammad Hanif