تحریر: احمد صفی
یہ تحریر فلمی صحافی جناب مسعود کامل کی ایک پوسٹ کے جواب میں لکھا تھا جس میں انہوں نے دھماکہ کو ایک عمومی خیال کے مطابق فلاپ فلم لکھا تھا۔۔۔ میرے خیالات اس موضوع پر حاضر ہیں
بھئی مجھے ایک چیز سے تو اختلاف ہے۔۔۔ اور وہ یہ کہ دھماکہ ایک فلاپ فلم ہے۔ میرے نزدیک تو فلاپ وہ فلم ہے جسے عوام مسترد کر دینے کے بعد بھُلا دیں۔ ایسی فلم کو چالیس سال بعد تک پوچھا نہیں جا رہا ہوتا اور نہ ہی فلاپ فلموں پر ایسا سَیر حاصل تبصرہ ہؤا کرتا ہے کہ جس میں آپ سا لکھنے والا اتنی محبت سے اپنی یادداشت کے کونے کونے سے کرید کرید کر اتنی اہم معلومات نکال کر قارئین یا چاہنے والوں کے سامنے ڈھیر کر دیتا ہے۔۔۔
ہاں اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دھماکہ اپنے وقت کا ایک تجربہ تھی اور کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ اپنے وقت سے پہلے بنی اور ریلیز ہو گئی اور شائد قوم اس کے لئے اس وقت تیار نہیں تھی۔۔۔ یہ سوشل ڈرامہ ٹائپ فلموں کا دور تھا اور جاسوسی کہانی کے کے لئے موزوں نہ تھا۔۔۔ آفتاب منگھی نام کے ایک اور فلم ساز نے بھی ابو سے رابطہ کیا تھا مگر اس وقت ابو کا کوئی ارادہ نہ تھا لہٰذا ان سے معذرت کر لی تھی۔۔۔ انہوں نے فلم بنائی تھی (اگر میرا حافظہ درست ہے تو) "شہر اور سائے" کے نام سے۔ اس فلم کا بھی دھماکہ ہی سا انجام ہؤا تھا۔
اب دھماکہ کیسے مختلف تھی اور اس دور سے آگے کی چیز تھی۔۔۔ اس کا ثبوت بہت آسان ہے۔ دیکھیئے سنہ بہتر تہتر میں ابھی پاپ موسیقی پاکستان میں پوری طرح جنم بھی نہ لے پائی تھی۔ عالمگیر اور شیہکی ایک طرف نازیہ حسن بھی اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوئی تھیں اور بچوں کے پروگرام تک محدود تھیں۔۔۔ اس وقت ابن صفی کی تخلیق ایک پاپ ڈانس کی صورت میں سامنے آتی ہے جس کو جیمسن (مولانا ہپی) کے کردار نے کہانی میں متعارف کرایا۔ جیمسن اس ڈانس کو ریگی ٹمبا کہتا ہے۔۔۔ اب اگر وہ میوزک اور وہ ڈانس مل سکے تو آپ دیکھیں گے کہ ابن صفی کی ذہنی اپچ نے جزائر غرب الہند سے جنم لینے والی صنف ریگے موسیقی کو افریقی موسیقی کے ٹمبے میں ایسا جفت کیا کہ ایک نئی صنف ابھر کر سامنے آئی۔ مولانا ہپی اور نعیمہ گرج اس ڈانس میں پارٹنر تھے اور کئی فلور پر کئی جوڑوں نے ان کا ساتھ دیا۔۔۔ یہ اسٹائیل بہت بعد میں جا کر فلموں میں نظر آتا ہے۔
اس وقت یہ ساری کوشش ایک محتاط اور روائت پسند معاشرے میں فوری مقبولیت نہ حاصل کر سکی۔
دوسری اختراع جس کا خمیازہ اس فلم کے ساتھ ساتھ فلم بنانے والے اور فلم کے ایک گلوکار کو بھگتنا پڑا وہ تھی میر تقی میر جیسے استاد کی غزل کو مغربی آلات ِ موسیقی پر مغربی دھن میں گانا اور اس پر بھی ایک مغربی ڈانس کا فلمایا جانا تھا۔۔۔ یہ غزل تھی ”الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا / دیکھا اس بیماریء دل نے آخر کام تمام کیا“۔۔۔ گلوکار تھے جناب سلیم شہزاد جو برصغیر کے کلاسیکل موسیقار اور گائیک عظیم پریم راگی کے صاحبزادے ہیں۔ ان سے اس بات کی تصدیق آج بھی کی جاسکتی ہے کہ ان پر ریڈیو کے دروازے اساتذہ کی اسی بے حرمتی کی سزا کے طور پر بند کر دیے گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ فلم کے ریڈیو پروگرام اور اشتہارات پر بھی اسی سبب پابندی لگا دی گئی۔۔۔ اب مارکیٹنگ کا یہ واحد ذریعہ (کہ ٹی وی اس وقت تک ہر گھر میں نہیں ہوتا تھا) جاتارہا۔۔۔
اب ذرا دیکھیئے کہ نوّے کی دہائی میں جاکر کہیں ہم اس قابل ہوئے کہ پاپ بینڈز کے گائے ہوئے اساتذہ کے کلام کو قبول کر سکیں۔۔۔ اب نوجوانوں کو روکنا ممکن جو نہیں رہا۔۔۔ اب اقبال، غالب، میر سب ہی مغربی آلات موسیقی اور مغربی دھنوں میں گائے جا رہے ہیں اور لوگ سر دھن رہے ہیں۔ کم از کم اسی طرح ان اساتذہ کا کلام تو نوجوانوں تک پہنچ رہا ہے۔۔۔یہی شائد ابن صفی نے اس وقت چاہا تھا جو ہم لوگ سمجھ ہی نہ پائے۔۔۔ اور دیر میں اسی نتیجے پر پہنچے۔۔۔ اب تو کوئی بینڈ کامیاب ہی نہیں ہوتا جب تک کسی صوفی شاعر کا کلام انہی بنیادوں پر نہ گا دے۔۔۔
ابن صفی جانتے تھے کہ ان کی اس جرأت پر اعتراض ضرور ہوگا تو اس کا جواب بھی انہوں نے فلم ہی میں جیمسن کے کردار سے دلوایا جب ڈانس فلور پر ایک کردار ان سے مؔیر کی تضحیک کی شکایت کرتا ہے۔ جیمسن نے فوراً ایک مغربی استاد یعنی حضرت ولیم شیکسپئیر کی ایک بیلاڈ (ٹویلفتھ نائٹ، ایکٹ ٹو، فور) کی قوالی بنا کر سنا دی...۔
ایک اور انفرادیت اس فلم کی یہ رہی کہ اس سے قبل کبھی بھی فلم کا سب سے کامیاب گیت ( اس کیس میں غزل) کبھی بھی وِلن پر نہیں فلمایا جاتا تھا۔
اس میں فم اسٹار رحمٰن جو ایک بلیک میلر ساگر کا کردار ادا کر رہے تھے ان پر ”راہ ِ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں“ فلمائی گئی۔ اس غزل کی مقبولیت کا آج تک یہ عالم ہے کہ ایک انٹرویو میں جو میں نے حبیب ولی محمد صاحب سے نیویارک کے ایک ریڈیو کے لئے لیا تھا، اس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں ہر محفلِ غزل میں یہ غزل پبلک کی فرمائش پر ضرور سنانی پڑتی ہے۔ ان کے دو کنسرٹس میں نے امریکہ میں سنے اور دونوں میں یہی معاملہ دیکھنے میں آیا۔
بات لمبی ہو ہی ہے مگر مجھے یقین ہے میرے ساتھ ساتھ آپ کو بھی مزا آرہا ہو گا لہٰذا کچھ اور بات بھی کئے لیتے ہیں۔ اس فلم کے بارے میں آپ کا یک خیال بالکل درست ہے کہ اس میں عمران اور اس کی اصل ٹیم کو بالکل نہیں دکھایا گیا بلکہ ظفرالملک اور جیمسن کے نام سے دو کردار "تابوت میں چیخ " نامی کتاب میں متعارف کرائے گئے جن کا مقصد ہی فلم میں استعمال کیا جانا تھا۔ یہ اسی لئے تھا کہ عمران اور ٹیم کے دیگر ممبران کا جو تصور لوگوں کے ذہنوں میں تھا وہ مجروح ہوجاتا تو اس سے بڑھ کر تکلیف دہ بات نہ قارئین کے لئے ہوتی اور نہ مصنف کے لئے۔۔۔ حالانکہ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہ کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہ تھا۔ لوگ اپنے تصورات کو بدل لینے پر قادر ہوتے ہیں لہٰذا معقول کرداروں کے چناؤ پر کبھی اعتراض نہ کرتے۔۔۔
آج کی دنیا میں اس کا جواب جیمز بانڈ کے کردار کو ادا کرنے والے مختلف فنکاروں کی کامیابی سے دیا جا سکتا ہے۔ خیر ہم واپس دھماکے پر آتے ہیں۔۔۔ سب کرداروں سے پہلو تہی کر لی گئی مگر ایکس ٹو کے کردار کو ہر حال میں اس کہانی میں آنا ہی تھا۔۔۔ اس کی آواز ہی سنائی دیتی ہے لہٰذا بہت سی آوازیں ٹیسٹ کی گئیں مگر وہ بھرائی ہوئی آواز کوئی پیدا نہ کر سکا۔۔۔ پھر ابو نے ایک خاص طرح بول کر بتایا کہ اس طرح ایکس ٹو کو بولنا چاہیئے بس تو پھر کیا تھا قمر زیدی صاحب نے کہ مل گیا ایکس ٹو اور ابو کے بار بار انکار کرنے کے باوجود فلم میں ایکس ٹو کے ڈائیلاگ ابو ہی کی آواز میں ریکارڈ کئے گئے۔۔۔ اگر کبھی فلم دیکھنے کو مل جائے تو یہ پارٹ غور سے دیکھیئے گا!
فلم کی ناکامی کے بہت سے اسباب آپ نے بیان کئے ان میں سے بہت سے درست بھی ہیں۔ مگر اسے پھر اس کسوٹی ہر پرکھئے کہ لوگ آج تک اس فلم کو ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ اُس دَور کے لوگوں سے پوچھیں کہ انہوں نے یہ فلم دیکھی تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اکثریت نے یہ فلم دیکھی ہی نہیں۔۔۔ ابو کی کتاب کا کم از کم بیس ہزار کی تعداد میں پہلا ایڈیشن چھپتا تھا۔۔۔ اور یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ ریگل پر تقسیم کے وقت گھنٹے دو گھنٹے میں یہ کتاب غائب ہو جاتی تھی اور پھر اگلے ایڈیشن کی تیاری کی جاتی تھی۔ ان کے خریداروں میں ایک بڑی تعداد آنہ لائبریریوں کی تھی جن کے طفیل ایک ناول کو کم از کم بیس بیس آدمی تو پڑھتے ہی تھے۔۔۔ اس سے ابن صفی کے پرستاروں کی تعداد لاکھوں میں شمار ہوجاتی ہے۔ اگر یہ سب کے سب لوگ اس فلم کو دیکھ سکتے تو پھر یہ فلم ہر دَور کے لحاظ سے کامیاب ہوتی۔۔۔ جتنی بھی بور فلم ہوتی۔۔۔ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہیئے کہ کیا یہ فلم آج لگے تو کیا آپ صرف اسی لئے نہ پہنچ جائیں گے کہ دیکھیں تو کیا بنایا ہے۔۔۔ پھر کیسے فیل ہو گئی؟؟؟
ایک اہم وجہ جو اکثر لوگوں کو نہیں معلوم وہ یہ ہے کہ یہ فلم کراچی میں اس وقت بنی جب کہ فلم کی دنیا میں لاہور فلم انڈسٹری کا طُوطی بول رہا تھا۔ کراچی میں بننے والی فلمیں عموماً اس معیار کی نہیں سمجھی جاتی تھیں جیسی کہ لاہور کے نگار خانوں میں بننے والی فلمیں۔ ڈسٹری بیوٹر حضرات اور سنیما مالکان بھی اس معاملے میں لاہوری فلموں کو ترجیح دیتے تھے۔ جب اس فلم کو ریلیز کرنے کا موقع آیا تو ڈسٹری بیوشن کے مسائل نے بھی سر اُٹھایا۔۔۔ اس سلسلے میں تالپور صاحب (مولانا ہپی) کو بھی مشکلات درپیش آئیں۔۔۔ انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اپنی ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی بھی رجسٹرڈ کرا لی اور کہا کہ اسی کمپنی کے ذریعہ دھماکہ کو ریلیز کر دیا جائے گا۔ اب یہاں تجربہ کی کمی نے نقصان پہنچایا۔
کاتا اور لے دوڑی کے مصداق انہوں نے فلم کو ریلیز کرنے میں جلدی کی اور بقرعید سے دو یا تین ہفتے قبل یہ فلم ریلیز کر دی۔ بقرعید پر تمام سنیما نئی آنے والی فلموں کے لئے ُبک تھے اور دھماکہ کو بقرعید پر ان کے لئے جگہ خالی کرنی پڑی۔۔۔ چھوٹے موٹے سنیماؤں میں چلتے رہنے کی بجائے فلم کو مکمل طور پر اتار لیا گیا لیکن پھر یہ کبھی سنیماؤں کی زینت نہ بن سکی۔
کہتے ہیں اس فلم کا ایک پرنٹ مرحوم محمد حسین تالپور کی ملکیت میں موجود تھا۔ محمد حنیف صاحب، راشد اشرف صاحب اور راقم الحروف نے محمد حسین تالپور صاحب سے رابطہ رکھا اور ان سے اس فلم کے لئے بات بھی کی۔ مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی وہ وعدہ کرتے رہے مگر ایفاء نہ کیا۔ اگر ان کے ذریعے ابن صفی کے اہل خانہ اس فلم کو اور اس کے حقوق کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو پھر اس فلم کے ڈائرکٹرز کَٹ کو ریلیز کرنے کی کوشش کی جاتی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس کو بہتر بھی بنایا جا سکتا۔۔۔ مگر ان کے انتقال کے بعد یہ کام مشکل سے ناممکن کی حد میں داخل ہو چکا ہے
اب دعا یہی ہے کہ سلولائیڈ پر موجود یہ فلم چالیس سال سے زیادہ عرصہ تک ڈبے میں بند رہنے کے باوجود اصل حالت میں باقی رہ گئی ہو ورنہ موسمی اثرات تو سلولائیڈ کے لئے سمِ قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ شائد ہمارے آپ کے ہاتھ کچھ نہ آئے اور یہ تاریخی فلم اب کبھی پردۂ سیمیں پر یا ہمارے کمپیوٹرز کی اسکرینز پر نظر نہ آسکے۔۔۔
خیر اندیش
احمد صفی
لاہور، پاکستان