انکا،
اقابلا، سونا گھاٹ کا
پجاری کے مصنف انوار
صدیقی
سے
ملاقات
نومبر 14
دو ھزار نو
یہ
ملاقات انوار
صدیقی صاحب کی
قیام گاہ پر ہوئی، ملاقات
میں احمد صفی صاحب کے
بیٹے
اثمر صفی اور منیر
احسن بھی شریک تھے
شامل نظر مضمون و ملاقات
، جناب انوار صدیقی کی
وادی اردو کے لیے خاص
عنایت ھے ورنہ صدیقی صاحب
نام و نمود و شہرت سے
کوسوں دور رہنے والے شخص
ہیں۔ منذکرہ مضمون رابطہ
میں سن دو ھزار سات میں
شائع ہوا تھا۔ متذکرہ
مضمون میں جناب انوار
صدیقی نے ابن صفی صاحب کا
تذکرہ بڑے لگاؤ کے ساتھ
کیا ہے.
ستمبر انیس سو چونتیس
کے پہلے دن الہ آباد
میں پیدا ہوئے، عمر
عزیز کے بچھتر برس
پورے کر چکے۔ سلسلہ
نسب اکبر الہ آبادی
سے ملتا ہے اور خود
سعادت حسن منٹو کے
شیدائی ہیں۔ والد
مرحوم پروفیسر محمد
انوار الحق اردو و
فارسی کے عالم ہونے
کے ساتھ ساتھ ایم اے
ایل ایل بی بھی تھے۔
بہت کم لوگ جانتے ہوں
گے کہ پروفیسر انوار
الحق، الہ آباد
یونیورسٹی میں ایشیا
کے سب سے بڑے جاسوسی
ناول نگار، جناب ابن
صفی کے استاد تھے۔
انوار صدیقی نے اردو
پڑھنے والوں کو بے
شمار کہانیاں و قصے
دیے۔ ان بے مثال
کہانیوں میں انکا،
اقابلا، سونا گھاٹ کا
پجاری، غلام روحیں،
طاغوت اور بھنور جیسی
کہانیاں شامل ہیں۔
گوشہ نشینی و قناعت
پسندی مزاج کا حصہ
ہیں۔ غضب کے ذود رنج
اور بلا کے ذود حس
ہیں۔
انوار صدیقی کے ابن
صفی صاحب کے ساتھ
تعلق کو ایک طویل
عرصہ گزر چلا، ان کے
ساتھ گزارے ہوئے کئی
دلچسپ لمحوں کے امین
ہیں۔ ہر لحاظ سے ایک
عہد ساز شخصیت اور
قدیم روایتوں کے
پاسدار۔ کتنے ہی
ایسے واقعات ہیں جو
ان کے سینے میں دفن
ہیں۔ لیکن ان تمام
واقعات کو قلم بند
کرے سے گریزاں۔ راقم
کے پرزور اصرار پر
کہا کہ قلم سے کوئی
ناگفتہ بات نکل گئی
تو کون ذمہ دار ہو گا
؟ تین گھنٹے کی طویل
نشست میں حاصل کردہ
چند باتیں انوار صدیقی صاحب کی
اجازت سے پیش خدمت
ہیں
:
- استاد محبوب
نرالے عالم کو
پہلی مرتبہ ابن
صفی صاحب سے
ملوانے والے
انوار صدیقی ہی
تھے۔ اس بارے میں
انکشاف کیا کہ
ایک مرتبہ صفی
صاحب کے ساتھ گلی
میں کھڑا تھا کہ
سوندھے چنوں کا
بندوبست لیے
استاد محبوب
نرالے عالم کا
وہاں سے گزر ہوا۔
استاد کو میں نے
آواز دی اور پاس
بلا لیا۔ چند ہی
لمحوں میں استاد
ابن صفی سے بے
تکلف ہو گئے۔ میں
وہاں سے چلا آیا۔
کچھ دنوں بعد ایک
دن ابن صفی بولے
‘یار کس آدمی کو
میرے پیچھے لگا
ڈالا، وہ اکثر
آتا ہے اور دیر
گئے بیٹھا کرتا
ہے اور پھر میرا
وقت بھی صرف ہوتا
ہے‘ ۔ میں نے (انوار
صدیقی) کہا کہ
صفی صاحب، یہ شخص
بھی گویا اسم
بامسمی یے، اس کو
اپنے ناولز میں
پیش کیجیے۔ ابن
صفی مان گئے۔
اور پھر دنیا نے
دیکھا کہ پھیری لگا
کر چنے بیچنے والے
شخص کو صفی صاحب نے
ایک زندہ و جاوید
کردار کی شکل دے کر
امر کر دیا
- سائکل پر ابن
صفی صاحب اور میں
(انوار صدیقی)
اکثر مولوی مسافر
خانے کی طرف
مشہور زمانہ سیخ
کے کباب کھانے
جایا کرتے تھے۔
ایک مرتبہ میں نے
دیکھا کہ صفی
صاحب نے کباب کھا
کر ہاتھ چہرے پر
پھیر لیا جبکہ
میں نے اپنے ہاتھ
دھو ڈالے، اس پر
صفی صاحب بولے
‘ارے بھئی، یہ
کباب کھا کر ہاتھ
دھونے سے تو
خوشبو جاتی رہے
گی‘ ۔۔۔ اس دن کے
بعد سے میں نے
بھی ان کی تقلید
میں ویسا ہی کرنا
شروع کیا۔
ابن صفی ایک عہد
ساز شخصیت تھے،
روتے ہووں کو
ہنسانے والے۔
- میرے (انوار
صدیقی) والد،
پروفیسر محمد
انوار الحق ابن
صفی کی شاعری کے
برے میں کہا کرتے
تھے کہ ‘ اسرار
کی شاعری اگر فیض
کے برابر نہیں تو
کسی صورت اس سے
کم بھی نہیں‘ ۔۔۔
(اس موقع پر
انوار صدیقی نے
راقم کو ابن صفی
کی ایک نظم زبانی
سنائی
- ایک مرتبہ صفی
صاحب کے پاس ایک
صاحب آئے اور کہا
کی لفظ خواجہ سرا
کا متبادل تو
بتائیے۔ میں (انوار
صدیقی) نے کئی
متبادل الفاظ
بتائے لیکن پھر
یہ ابن صفی ہی
تھے جو اپنی
مخصوص انداز میں
پان کی پیک پھینک
کر آئے اور کہا ”
غیر جانب دار”
اور ہم سب پھڑک
اٹھے۔
- ایک صاحب تھے
جن کی ایک آنکھ
کی پتلی بالکل
سفید تھی اور
دوسری میں سیاہ
داغ تھا اور وہ
باریش بھی تھے،
کسی معاملے میں
وہ صاحب ابن صفی
سے معاملہ بگاڑنے
کے مرتکب ٹھہرے،
صفی صاحب نے اور
تو ان سے کچھ نہ
کہا لیکن ایک با
ان صاحب کا ذکر
آنے پر مجھ (انوار
صدیقی) سے بولے ”
یار جانے دو اس ع
غ شیخ کو” ( ع سے
مراد ان صاحب کی
وہ آنکھ جو سفید
تھی، غ سے مراد
سیاہ داغ والی
آنکھ اور شیخ
ٹھہرا ان کے
باریش ہونے کی
طرف اشارہ